پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کا ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
جھنگ (نیوز ڈیسک) پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور سول انتظامیہ نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز کر دیا ہے، جس کے دوران سیکڑوں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق کھولڑہ پوائنٹ، ہسووالی، بدھوانہ، جھنگ اور چنیوٹ میں پاک فوج اور سول انتظامیہ دن رات متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوان کشتیوں کے ذریعے بزرگوں، خواتین اور بچوں سمیت متعدد خاندانوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر چکے ہیں، جبکہ مال مویشی بھی محفوظ مقامات تک پہنچا دیے گئے ہیں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج نے امدادی کیمپس قائم کیے ہیں، جہاں کپڑے، راشن اور ادویات متاثرین کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فری میڈیکل کیمپس بھی قائم ہیں جن میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
ریسکیو اور ریلیف آپریشن اس وقت بھی جاری ہے اور متعلقہ ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔ متاثرین نے پاک فوج کے بروقت اقدامات اور انسانی ہمدردی پر مبنی کوششوں کو زندگی بچانے والی مدد قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں پاک فوج
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔