گجرات میں ریکارڈ بارش، نالے بپھر گئے، جیل و عدالت متاثر، تعلیمی ادارے بند
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
گجرات (نیوز ڈیسک) گجرات میں 577 ملی میٹر کی ریکارڈ بارش نے تباہی مچا دی۔ برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث کئی دیہات زیر آب آگئے جبکہ شہری علاقوں میں گھنٹوں بارش کا پانی کھڑا رہا، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ جیل اور سیشن کورٹ کے احاطے میں بھی پانی داخل ہوگیا، جس کے باعث متعدد قیدیوں کو لاہور اور گوجرانوالہ جیل منتقل کیا گیا۔ ضلع بھر میں تمام تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بارش کے نتیجے میں جلال پور جٹاں میں دو منزلہ خالی عمارت زمین بوس ہوگئی، سیلابی پانی نے عمارت کی بنیادیں کمزور کر دی تھیں۔
کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق مدینہ سیداں کے قریب حفاظتی بند باندھ کر پانی کو برساتی نالے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ پانی کی نکاسی کے لیے گوجرانوالہ سے بھاری مشینری اور گاڑیاں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔
ادھر دریائے چناب میں آنے والا دوسرا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے مزید نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔