بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ’ریوا‘ ضلع میں تعینات ایک خاتون جج کو تاوانی خط بھیجنے والے 74 سالہ شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ خط میں 500 کروڑ روپے مانگے گئے تھے اور اسے ایک ایسے شخص کے نام سے دستخط کیا گیا تھا جس سے بھیجنے والے کی ذاتی دشمنی تھی۔

واقعہ کیسے ہوا؟

2 ستمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ موہنی بھاڈوریا، جو ریوا کے ٹایونتھر کورٹ میں تعینات ہیں، کو بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔ خط میں لکھا تھا: ’اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو رقم ادا کرو‘۔ اس پر دستخط ’ سندپ سنگھ ‘ کے نام سے کیے گئے، جسے خوفناک ہنومان گینگ کا رکن بتایا گیا۔

پولیس جعلی خط لکھنے والے تک کیسے پہنچی؟

شکایت ملنے کے بعد ریوا ایس پی وویک سنگھ نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس نے خط کے ماخذ کا سراغ لگایا۔ ابتدائی شبہ سندپ سنگھ پر گیا اور اس کی ہینڈ رائٹنگ کے نمونے بھی لیے گئے۔ تاہم فورینزک رپورٹ اور گاؤں میں کی گئی تفتیش سے واضح ہوا کہ اسے جھوٹے طور پر پھنسایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے محبت کی انتہا: محبوبہ سے ناراضی پر نوجوان نے پورے گاؤں کی بجلی کاٹ دی، ویڈیو وائرل

اصل سراغ ریوا RMS پوسٹ آفس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملا، جس میں ایک معمر شخص کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے خط بھیجتے دیکھا گیا۔ بعد میں اس کی شناخت دیوراج سنگھ کے طور پر ہوئی، جو پریاگ راج کے شنکرگڑھ علاقے کے راجاکوتھی گاؤں کا رہائشی ہے۔

دیوراج سنگھ نے خط کیوں لکھا؟

تحقیقات میں پتہ چلا کہ دیوراج سنگھ کی ذاتی دشمنی سندپ سنگھ سے تھی، جس نے چند ہفتے قبل مبینہ طور پر اس پر حملہ کیا تھا۔ دیوراج نے اس واقعے کی شکایت تھانے میں درج کرائی تھی تاہم وہ پولیس کی کارروائی سے ناخوش تھا۔ اسی لیے اس نے سندپ سنگھ کو پھنسانے کے لیے یہ سازش تیار کی۔

یہ بھی پڑھیے: محبوبہ کے گھر والوں سے بچنے کی کوشش میں نوجوان بھارتی سرحد عبور کرگیا

تفتیشی ٹیم کے مطابق، دیوراج نے خود اعتراف کیا کہ وہ سندپ کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے جج سے 500 کروڑ روپے کا مطالبہ کر کے معاملے کو ’ حقیقی ‘ دکھانے کی کوشش کی۔

پولیس نے دیوراج سنگھ کو جمعرات کے روز گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ اس کے خلاف ثبوت کے طور پر رجسٹرڈ ڈاک کی رسید اور دیگر مواد ضبط کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت

لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔

سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔

بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔

عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔

https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد