وزیراعظم شہباز شریف کا جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کے موقع پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جشن ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ 12 ربیع الاول کے دن آج سے 1500 برس قبل سرزمینِ مکہ میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت نے ظلمتوں کو نور میں بدل دیا اور انسانیت کو عدل، رحمت، مساوات اور وحدت کی نئی راہیں دکھائیں، رواں سال، پاکستان سمیت پوری دنیا میں سالِ رحمت للعالمین ﷺ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قراردادیں پاس ہوئیں جن کی رو سے نبی مکرم ﷺ کی 1500ویں ولادت باسعادت کو ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منانے کا فیصلہ کیا گیا، اس امر کی گواہ ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے محبوب نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنے دستور، قانون اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک کامل اور ہمہ جہت اسوہ ہے، حکومت و سیاست ہو، عدل و انصاف ہو، معیشت اور تجارت ہو، یا معاشرتی اقدار ہوں، سیرتِ طیبہ ہمارے لیے ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، قرآن ہمیں واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ "تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ میں بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے روابط میں تیزی آگئی اور فاصلے سمٹ گئے ہیں ایسے میں ہمیں اپنی نئی نسل کو خیر، علم اور امن کی طرف راغب کرنے کیلئے انہیں حیات طیبہ ﷺ سے روشناس کرانا ہوگا، نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زبان اور کلمہ خیر و بھلائی کے لیے استعمال ہو، اس لئے ہمیں نسل نو کو جدت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے لازوال اصول جو نبی آخرزماں حضرت محمد ﷺ نے امت کیلئے وضح کئے، ان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انکے محبت، بھائی چارے اور امن کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی ترغیب دینی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک پاکستان کو سیرتِ طیبہؐ کی عملی تعبیر بنانا ہے، ہمیں تعصب، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت کی ہر شکل کو رد کرنا ہے اور بھائی چارے، ایثار اور اتحاد کو فروغ دینا ہے، پاکستان کو درپیش مسائل چاہے وہ معاشی ہوں یا سماجی ان کا پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب ہم نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئیں، ہم سب آج کے دن اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم سب ملک پاکستان کو سیرت النبی ﷺ کے سنہری اصولوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہماری پالیسیوں کا مقصد مساوات، غربت کا خاتمہ اور علم و تحقیق کا فروغ ہے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بن سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے، اتحاد و یگانگت عطا فرمائے اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی محبت و اطاعت میں زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کو شہباز شریف نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت