سعودیہ اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، سعودی ولی عہد کا امیر قطر کو ٹیلی فون
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
سعودیہ اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، سعودی ولی عہد کا امیر قطر کو ٹیلی فون WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
ریاض(سب نیوز) سعودی عرب نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی حکومت نے کہا ہے کہ مملکت اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ برادر ملک قطر کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سعودی عرب نے خبردار کیا کہ اسرائیلی کی جانب سے مسلسل جرائم کے ارتکاب اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔سعودی خبررساں ادارے کے مطابق مملکت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرے اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
دوسری جانب سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد نے قطر پر اسرائیلی حملے کو مجرمانہ فعل اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت قطر کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے برادر ملک کے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
خیال رہے کہ اسرائیل فوج نے آج قطری دار الحکومت دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا۔عرب میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے وقت دفتر میں حماس کی اعلی قیادت موجود تھی جو غزہ جنگ بندی معاہدے پر غور کررہی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی حملے میں ہمارا کوئی رہنما شہید نہیں ہوا، حماس کی تردید اسرائیلی حملے میں ہمارا کوئی رہنما شہید نہیں ہوا، حماس کی تردید قطر پر اسرائیلی حملہ علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور خطرناک اشتعال انگیزی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل نومئی کے ایک اور کیس میں یاسمین راشد،میاں محمود الرشید اور دیگر کو 10، 10سال قید کی سزا،شاہ محمود قریشی بری سیاسی اتفاق نہ رکھنے والے متنازع ڈیموں پر آواز اٹھاتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے دوران 67پاکستانی قیدیوں کی بھارتی جیلوں سے رہائی اسلام آباد کے صحافی نے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کو 11کروڑ ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا، 7روز میں معافی کا مطالبہ،معاملہ کیا ہے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپنے تمام تر وسائل سعودی ولی عہد کے ساتھ قطر کے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔