اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف دائر کسی بھی مقدمے میں شواہد موجود نہیں، اور جب یہ کیسز ہائیکورٹ میں لگیں گے تو سب سامنے آ جائے گا۔

عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ آج ہم توشہ خانہ کیس میں اڈیالہ جیل جا رہے ہیں اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج کو درخواست کریں گے کہ القادر ٹرسٹ کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ماہ سے یہ کیس زیر التوا ہے اور جیسے ہی لگے گا، عدالت کو ضمانت دینا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں جج کے حکم پر ملاقات ہوگی اور انتظامیہ اس پر مجبور ہے۔ ان کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس کی جلد بازی میں سماعت ہو رہی ہے تاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا دی جا سکے۔

اس سے قبل راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی جس کی صدارت جج امجد علی شاہ نے کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا کو دلائل دینے اور پولیس کو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا، جبکہ سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

علیمہ خان 26 نومبر کے ڈی چوک احتجاج اور تھانہ صادق آباد کے مقدمے میں نامزد ہیں۔ عدالت نے نعیم حیدر پنجوتھہ کی عبوری ضمانت میں بھی 18 ستمبر تک توسیع کر دی۔

عدالت کے باہر علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم آج پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے، مگر سماعت ملتوی کر دی گئی۔ ان کے مطابق مقدمات بے بنیاد اور بوگس ہیں اور مؤکلہ کی ہدایت تھی کہ ان پر بحث کی جائے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علیمہ خان

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی