وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
عدالت نے حکم دیا کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے 17 ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ دوران سماعت عدالت میں ان کی جانب سے کوئی نمائندہ ابتدائی طور پر موجود نہیں تھا۔
بعد ازاں سماعت کے دوران گنڈا پور کے وکیل راجا ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے اور وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا کی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سر آپ نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، اگر ملزم پیش ہو تو آپ وارنٹ منسوخ کر دیں۔ جج مبشر حسن چشتی نے ریمارکس دیے کہ آپ ملزم پیش کریں، میں وارنٹ منسوخ کر دوں گا۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اب تو میڈیا پر خبر چل گئی ہے، موکل کی سبکی ہو چکی ہے۔ عدالت نے جواب دیا کہ میں میڈیا کو کیا کہہ سکتا ہوں؟ اگر آپ کا کوئی جونیئر بھی آ کر تاریخ لے لیتا تو میں کیس رکھ لیتا۔
عدالت نے گنڈا پور کے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 17 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ تھانہ بارہ کہو میں درج کیا گیا تھا، جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو نامزد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا علی امین گنڈا وارنٹ گرفتاری جاری گنڈا پور کے عدالت نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔