عمران خان کو اب کس مقدمے میں سزا سنائی جانے والی ہے، اس حوالے سے علیمہ خان نے پیش گوئی کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ایک اور مقدمے میں سزا سنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

نجی ٹی وی  کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جیل کے اندر توشہ خانہ ٹو کیس کی کارروائی غیر معمولی عجلت میں کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ اسی مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے۔

علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو خود بھی بخوبی اندازہ ہے کہ فیصلہ ان کے خلاف ہی آئے گا اور انہیں ایک اور سزا سنائی جائے گی۔ موجودہ حالات میں انصاف کی فراہمی کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔

انہوں نے میڈیا نمائندوں سے براہِ راست بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ مین اسٹریم میڈیا کے سامنے گفتگو اس لیے نہیں کریں گی کیونکہ وہاں ’’پلانٹڈ لوگوں‘‘ کو بھیجا جا رہا ہے جو بدتمیزی کرتے ہیں اور ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  اس طرح کے مناظر سے کارکنان مشتعل ہو جاتے ہیں اور پھر مزید گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف اور پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف نئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں تاکہ دباؤ بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برس سے میڈیا اڈیالہ جیل کے باہر کوریج کرتا رہا ہے اور کبھی بدتمیزی نہیں ہوئی، مگر اب جان بوجھ کر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے صورتحال کشیدہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علیمہ خان نے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی