امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے دوحہ، قطر میں فضائی حملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

اتوار کو نیو جرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حماس کے خلاف کچھ کرنا ہے لیکن قطر امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔ میں نے امیرِ قطر سے کہا کہ آپ کو اپنی پبلک ریلیشنز بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ آپ کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کا امکان پھر خطرے میں: ٹرمپ پُرامید، حماس کا اسرائیل پر سخت الزام

اسرائیل کے حملے میں دوحہ کی ایک ولا کو نشانہ بنایا گیا جس میں مبینہ طور پر حماس کے رہنما موجود تھے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تحریر کیا تھا یہ وزیر اعظم نیتن یاہو کا فیصلہ تھا، میرا نہیں۔ مجھے قطر پر اس حملے پر بہت افسوس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر ایک خودمختار ملک ہے اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے جو امن قائم کرنے کے لیے ہمارے ساتھ خطرات مول لے رہا ہے۔ ایسے حالات میں یکطرفہ بمباری نہ تو اسرائیل کے مفاد میں ہے اور نہ ہی امریکا کے۔

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ذریعے قطری حکام کو حملے سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن بدقسمتی سے بہت دیر ہو چکی تھی۔

دوسری جانب اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس بلایا ہے جو آج دوحہ میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں عرب لیگ اور او آئی سی کے رکن ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل دوحہ عرب ممالک غزہ فلسطین قطر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل عرب ممالک فلسطین

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام