اسٹاک ہوم میں اسرائیل مخالف احتجاج، غزہ کے لیے عالمی فلوٹیلا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
غزہ میں جاری جنگ کے خلاف اسٹاک ہوم میں اسرائیل کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب تیونس سے غزہ کے لیے عالمی ’سُمود فلوٹیلا‘ روانہ ہو گئی ہے، جس کا مقصد محصور فلسطینیوں تک خوراک اور طبی امداد پہنچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تیونس کے پانیوں میں غزہ جانے والے فلوٹیلا پر ایک بار پھر ڈرون حملہ، عملہ محفوظ رہا
اسٹاک ہوم کے اوڈن پلان ضلع سے شروع ہونے والے مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے۔
مظاہرین نے ’نسل کشی نامنظور‘ اور ’فلسطین کو آزادی دو‘ جیسے بینرز اٹھا رکھے تھے اور بعدازاں مارچ کرتے ہوئے وہ سویڈش وزارتِ خارجہ تک پہنچے۔
????BREAKING:
The Global Sumud (Steadfastness) Flotilla has set sail from Bizerte, Tunisia, heading to Gaza to break the Israeli siege.
— Suppressed News. (@SuppressedNws) September 13, 2025
سویڈش امن کارکن مالن ایکرٹرم نے خطاب میں کہا کہ غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام بالکل مضحکہ خیز ہے کہ تمام تر ذمہ داری حماس پر عائد کی جائے، کیونکہ اسرائیل کے حملے اکتوبر 7 سے کہیں پہلے شروع ہو چکے تھے۔
انہوں نے یورپی سیاست دانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات سے گریزاں ہیں۔
ادھر تیونس کے شمالی شہر بزرت کے بندرگاہ سے ’گلوبل سُمود فلوٹیلا‘ کا پہلا جہاز غزہ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 40 جہازوں اور 44 ممالک کے 800 سے زائد کارکنوں پر مشتمل یہ بیڑہ بحیرہ روم کے راستے فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچائے گا۔
بقیہ جہاز ساحل پر اکٹھے ہونے کے بعد اجتماعی طور پر غزہ کی جانب روانہ ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ہوم اسرائیل تیونس غزہ فلسطین گلوبل سُمود فلوٹیلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ہوم اسرائیل تیونس فلسطین گلوبل س مود فلوٹیلا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔