میچ ریفری تبدیل نہ کرنے پر پاکستان کا ایشیا کپ کے مزید میچز نہ کھیلنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطالبے پر میچ ریفری کو تبدیل نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان نے ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع نے کہا کہ پی سی بی کے مطالبے پر اگر آئی سی سی نے میچ ریفری کو تبدیل نہ کیا تو پاکستان ٹیم ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہیں لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ؛ بھارتی ٹیم کے رویے کیخلاف اے سی سی کا سخت ایکشن لینے پر غور
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپرٹ آف دی کرکٹ کی پاسداری نہ کرنے پر آئی سی سی اور ایم سی سی کو خط لکھ کر میچ ریفری پائی کرافٹ اور ایونٹ ڈائریکٹر اینڈریو پارسل کو ہٹانےکا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی کھلاڑیوں نے دانستہ طور پر پاکستانی پلیئرز سے ہاتھ نہ ملا کر کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، میچ ریفری نے جان بوجھ کر کپتانوں کو ہاتھ ملانے سے روکا۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔