میچ ریفری تبدیل نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کا ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
میچ ریفری تبدیل نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کا ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 15 September, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطالبے پر میچ ریفری کو تبدیل نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان نے ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع نے کہا کہ پی سی بی کے مطالبے پر اگر آئی سی سی نے میچ ریفری کو تبدیل نہ کیا تو پاکستان ٹیم ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہیں لے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپرٹ آف دی کرکٹ کی پاسداری نہ کرنے پر آئی سی سی اور ایم سی سی کو خط لکھ کر میچ ریفری پائی کرافٹ اور ایونٹ ڈائریکٹر اینڈریو پارسل کو ہٹانےکا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی کھلاڑیوں نے دانستہ طور پر پاکستانی پلیئرز سے ہاتھ نہ ملا کر کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، میچ ریفری نے جان بوجھ کر کپتانوں کو ہاتھ ملانے سے روکا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فتنۃ الخوارج کے 31 دہشتگرد ہلاک اسرائیل کو اپنے کئے کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا؛ دوحہ اجلاس سے قبل قطری وزیراعظم کا بیان راولپنڈی اسلام آباد کے لیے بڑا منصوبہ؛ جڑواں شہروں کے درمیان جدید و تیز رفتار ٹرین چلے گی دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس آج ہوگا، 50 ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع عمران خان کو ایک اور مقدمے میں سزا سنائی جارہی ہے: علیمہ خان پی ٹی آئی کے 3 ارکان قومی اسمبلی کی ضمانت کی درخواستیں خارج وزیراعظم شہباز شریف عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کیلئے قطر روانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ کے مزید کسی میچ میں حصہ نہ میچ ریفری تبدیل نہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔