ٹیکس بڑھانے سے معیشت نہیں سنبھلتی تو کم کر کے دیکھ لیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
BRUSSELS:
برسلز میں مقیم پاکستانی ماہر معیشت اور فلاحی کارکن رضوان راؤجی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی گزشتہ دو سالوں میں نافذکی گئی ٹیکس پالیسیوں نے ملکی معیشت کو بدترین بحران میں مبتلاکر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط پر اپنائی گئی "ٹیکس لگا کر خرچ کرو" پالیسیوں کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج پاکستان کی معیشت ایسی گراوٹ کا شکار ہے جسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہاکہ ہر چیز پر ٹیکس لگانے سے معیشت کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے، بے روزگاری،کم ترقی کی شرح اور بڑھتے بجٹ خسارے نے ثابت کر دیا ہے کہ زیادہ ٹیکس لگانے کی روش ناکام ہو چکی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سپلائی سائیڈ اکنامکس کی طرف رخ کرے، جس میں ٹیکسوں میں واضح کمی، آزاد تجارت، محدود حکومتی اخراجات،کرنسی کااستحکام، نجکاری اور کاروبار دوست پالیسیوں کو فروغ دیا جائے۔
ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے، ٹیکسوں کی اقسام اور شرح کم رکھی جائیں تاکہ عوام اور کاروباری طبقہ خوش دلی سے ٹیکس اداکرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ زیادہ ٹیکس نہ صرف سرمایہ کاری کو متاثرکرتا ہے بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانے کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معاشی ناکامی کی بڑی وجہ وہ آئی ایم ایف پروگرامز ہیں جن میں ہر بار ٹیکس بڑھا کر خسارہ پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ حقیقی حل ٹیکس کم کرنے اور معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں ہے۔
اگر پالیسی سازوں نے بروقت رخ نہ بدلا تو معیشت کی بدحالی سے نکلنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معیشت کو
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔