نیپال: روایتی ووٹنگ نہیں، سوشل میڈیا پر ہوگا وزیر اعظم کا انتخاب
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا میں پہلی بار سوشل میڈیا کے ذریعے کسی وزیراعظم کا انتخاب ہوا ہے، اور یہ منفرد تجربہ جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں سامنے آیا ہے۔
دنیا بھر میں حکمرانوں کا انتخاب عموماً پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈال کر یا پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے، مگر نیپال میں سیاسی بحران اور عوامی مظاہروں کے بعد سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو چیٹنگ ایپ ’’ڈسکارڈ‘‘ کے ذریعے عوامی ووٹنگ سے عبوری وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ عوامی احتجاج اور حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد جب اقتدار کا بحران پیدا ہوا تو نوجوان مظاہرین نے فیصلہ کیا کہ قیادت خود چنی جائے اور اس مقصد کے لیے ڈسکارڈ کو انتخابی پلیٹ فارم بنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، نیپال میں نوجوانوں نے ’’یوتھ اگینسٹ کرپشن‘‘ کے نام سے ایک ڈسکارڈ سرور بنایا جس کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ یہ سرور احتجاجی تحریک کا کمانڈ سینٹر بن گیا، جہاں اعلانات، زمینی حقائق، ہیلپ لائنز، فیکٹ چیکنگ اور خبریں شیئر کی جاتی رہیں۔ جب وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دیا تو نوجوانوں نے 10 ستمبر کو آن لائن ووٹنگ کرائی۔ اس میں 7713 افراد نے ووٹ ڈالے جن میں سے 3833 ووٹ سشیلا کارکی کے حق میں پڑے، یوں وہ تقریباً 50 فیصد ووٹ کے ساتھ سب سے آگے نکلیں۔
ووٹنگ کے نتائج کے بعد سشیلا کارکی نے صدر رام چندر پاوڈیل اور آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدی سے ملاقات کی اور بعد ازاں عبوری وزیراعظم کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ مارچ 2026 میں عام انتخابات کرائے جائیں گے اور 6 ماہ میں اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح شفاف الیکشن اور عوامی اعتماد کی بحالی ہوگی۔
خیال رہے کہ ڈسکارڈ 2015 میں گیمرز کے لیے بنایا گیا پلیٹ فارم تھا، مگر آج یہ ایک بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کا استعمال خاص طور پر جنریشن زیڈ میں مقبول ہے کیونکہ یہ اشتہارات سے پاک فیڈ، ٹیکسٹ، آڈیو اور ویڈیو چیٹ کے فیچرز فراہم کرتا ہے۔ نیپال میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے وزیراعظم کا انتخاب جمہوری تاریخ میں ایک نیا اور حیران کن باب ہے جو مستقبل میں عالمی سیاست کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا انتخاب نیپال میں کے ذریعے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔