مقبوضہ کشمیر، انتظامیہ نے پروفیسر عبدالغنی بٹ کی میت کی جلد تدفین کے لئے اہلخانہ کو مجبور کیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
بھارتی قابض انتظامیہ نے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے خوف سے لواحقین کو میت رات کے اندھرے میں سپرد خاک کرنے پر مجبور کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے معروف آزادی پسند رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ مرحوم کے اہلخانہ کو ان کی میت کی فوری تدفین پر مجبور کیا۔ انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق اور دیگر کو مرحوم کی نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا۔ پروفیسر بٹ بدھ کی شام سوپور کے علاقے بٹنگو میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق، مسرور عباس انصاری اور دیگر کئی رہنمائوں کو جنازے میں شرکت کیلئے سوپور جانے کی اجازت نہیں دی۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے خوف سے لواحقین کو میت رات کے اندھرے میں سپرد خاک کرنے پر مجبور کیا۔ انتظامیہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو بھی غمزدہ لواحقین کیساتھ اظہار تعزیت کیلئے سوپور جانے سے روکنے کیلئے آج سرینگر میں گھر میں نظربند کر دیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں اور رہنمائوں نے سرینگر سے جاری بیانات میں پروفیسر بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو تحریک آزادی کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تسلط سے آزادی اور حق خودارادیت کیلئے مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کا دعوی کر رہا ہے لیکن لوگوں کو پروفیسر بٹ مرحوم کے جنازے میں شرکت سے روکنے کے ظالمانہ اقدام نے اس دعوے کی مزید قلعی کھول دی ہے۔
دریں اثنا بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، شوپیاں، کولگام، پونچھ، راجوری اور کٹھوعہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ ضلع بارہمولہ میں سینٹ جوزف نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کی طالبات نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی طالبات نے بارہمولہ سری نگر شاہراہ پر تقریباً آدھے گھنٹے تک دھرنا دیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس کے موقع پر کشمیری وفد نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر بھارت مخالف احتجاجی کیمپ لگایا۔ کیمپ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور جبر واستبداد کی دیگر کارروائیوں کے حوالے سے تصاویر آویزاں کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتظامیہ نے مجبور کیا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.