ٹرمپ نے میئر صادق خان کو ریاستی ضیافت میں شرکت کی اجازت نہ دینے کا اعتراف کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار کھل کر یہ تسلیم کر لیا کہ لندن کے میئر صادق خان کو برطانوی شاہی پروگرام ونڈزر کاسل میں دی گئی شاندار ریاستی ضیافت میں شرکت سے روکا جانا ان کی مرضی سے تھا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں نے خود ہدایت دی تھی کہ خان کو تقریب میں نہ بلایا جائے، کیونکہ میرے نزدیک وہ لندن کے سب سے ناکام میئر ہیں۔ صادق خان دنیا کے بدترین میئروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں اور انہوں نے لندن کو جرائم اور امیگریشن کے مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی بھی لندن کے میئر کو پسند نہیں کیا اور انہیں وہاں دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب ریاستی ضیافت میں دنیا بھر کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی، جن میں میڈیا ٹائیکون روپرت مرڈوک، برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیر اسٹارمر، ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک، کنزرویٹو رہنما کمی بیڈنوچ اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین شامل تھے۔
ضیافت کے دوران امریکی صدر نے اپنے خطاب میں تقریب کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک قرار دیا اور فخر سے کہا کہ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہیں برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے اتنی عزت بخشی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے برطانوی بادشاہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ صبر، عظمت اور برطانوی عوام کی روح کی علامت ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے صادق خان کے خلاف سخت بیانات لندن اور واشنگٹن کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے ریاستی ضیافت کو امریکا اور برطانیہ کی دوستی کی نئی علامت قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔