میئر صادق خان کو شاہی عشائیے میں مدعو نہ کرنے کی درخواست کی تھی، صدر ٹرمپ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ لندن کے میئر صادق خان کو ونڈسر کیسل میں شاہ چارلس کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
ایئر فورس ون پر امریکا واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صادق خان کو دنیا کے بدترین میئرز میں سے ایک قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تقریب میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن میں نے کہا کہ وہ وہاں نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: لندن کے میئر صادق خان کا اعزاز، شاہ چارلس کی جانب سے نائٹ کا خطاب
بی بی سی کے مطابق صادق خان نے اس تقریب میں شرکت کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی انہیں مدعو کیے جانے کی توقع تھی، میئر کے قریبی ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ کی سیاست ’خوف اور تقسیم‘ پر مبنی ہے۔
صدر ٹرمپ اور صادق خان کے درمیان یہ لفظی جنگ نئی نہیں، 2019 میں ٹرمپ نے میئر لندن کو ’سنگدل ناکام شخص‘ کہا تھا، جبکہ صادق خان نے انہیں دائیں بازو کی انتہا پسندی کو ہوا دینے والا قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران برطانوی کوئین کمیلا کا مستقبل کی ملکہ کیٹ سے ’سردمہری‘ کا مظاہرہ
اس مرتبہ بھی صدر ٹرمپ نے لندن میں جرائم اور امیگریشن پالیسی پر میئر کی کارکردگی کو ’تباہ کن‘ قرار دیا۔
صادق خان کے قریبی ذرائع نے جواب میں کہا کہ ٹرمپ کی سیاست معاشرے میں ’خوف اور نفرت‘ پھیلاتی ہے۔
’لندن ایک عالمی کامیابی کی کہانی ہے، یہ کھلا، متحرک اور بڑے امریکی شہروں سے زیادہ محفوظ ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ریکارڈ تعداد میں امریکی لندن میں سکونت اختیار کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا آسٹریلوی صحافی سے جھگڑا کس سوال پر ہوا؟
دونوں رہنماؤں کی یہ کشیدگی 2015 سے چلی آ رہی ہے، جب صادق خان نے صدرٹرمپ کے اس بیان کی مذمت کی تھی کہ مسلمانوں کو امریکا آنے سے روکا جائے۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے میئر کو آئی کیو ٹیسٹ کا چیلنج دیا اور لندن برج دہشتگرد حملے کے بعد بھی ان پر تنقید کی۔
2019 کے دورۂ برطانیہ میں صادق خان نے ’ٹرمپ بی بی‘ بلون کو لندن میں فضا میں بلند کرنے کی اجازت دی تھی۔ رواں سال جولائی میں بھی صدر ٹرمپ نے اسکاٹ لینڈ میں پریس کانفرنس کے دوران صادق خان کو ’گندا شخص‘ کہا، جس پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: “وہ میرے دوست ہیں۔”
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا نیویارک ٹائمز پر 15 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ کا برطانیہ کا دوسرا سرکاری دورہ، جو کسی غیر شاہی شخصیت کے لیے غیرمعمولی ہے، بڑی تقریب اور شاندار استقبالیہ کے ساتھ منعقد کیا گیا تاکہ دونوں اتحادیوں کے قریبی تعلقات کا اظہار ہو۔
تاہم پارلیمنٹ اسکوائر میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے اور ونڈسر کیسل پر ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی تصاویر پروجیکٹ کرنے پر 4 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاہ چارلس شاہی عشائیے صادق خان لندن میئر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاہ چارلس شاہی عشائیے صادق خان کو ٹرمپ کا
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔