وزیراعظم کی جنیوا میں نواز شریف سے ملاقات، پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
وزیراعظم کی جنیوا میں نواز شریف سے ملاقات، پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے لندن پہنچنے سے قبل جنیوا میں سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں پاک – سعودیہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کرنے کے بعد برطانیہ کے شہر لندن میں اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔
شہباز شریف نے لندن پہنچنے سے قبل کچھ دیر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مختصر قیام کیا اور وہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کی عیادت کی۔
وزیراعظم نے نواز شریف کو پاک – سعودی عرب تاریخی دفاعی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
نواز شریف علاج کے لیے ان دنوں جنیوا میں موجود ہیں اور ان کا آئندہ چند روز میں لندن آنے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف لندن میں 4 دن قیام کے دوران پاکستانی کمیونٹی اور تاجر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم ہفتے کو اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز دورہ سعودی عرب مکمل کرکے ریاض سے لندن روانہ ہوئے تھے، ریاض کے نائب گورنر محمد بن عبدالرحمٰن نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کو الوداع کیا تھا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخوارج کی جانب سے مساجد کو فتنہ انگیزی کےلئے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف خوارج کی جانب سے مساجد کو فتنہ انگیزی کےلئے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف سعودی عرب کیساتھ معاہدے میں کسی اور ملک کی شمولیت کا دروازہ بند نہیں کیا: وزیر دفاع جی ایچ کیوحملہ کیس: عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کیلئے ایس او پیز جاری غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے، آزاد فلسطینی ریاست کیلئےکوششیں جاری رہیں گی: پاکستان مودی کیلئے نئی مشکل؛ ٹرمپ نے بھارت کو ایرانی بندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی فینٹانل بنانے والے اجزا کی اسمگلنگ: امریکا نے بھارتی کاروباری افراد کے ویزے منسوخ کردیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف دفاعی معاہدے سے ا گاہ کیا نواز شریف سے ملاقات جنیوا میں
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔