امریکا کا بڑا اقدام: بھارتی بزنس ٹائیکونز کے ویزے منسوخ، منشیات اسمگلنگ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ فینٹانل بنانے والے کیمیائی اجزاء کی اسمگلنگ میں ملوث متعدد بھارتی کاروباری شخصیات اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اجزاء فینٹانل کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ فینٹانل امریکا میں اوورڈوز کے باعث سب سے زیادہ اموات کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
سفارتخانے کے بیان میں ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم ترجمان نے تصدیق کی کہ وہ سب بھارتی شہری ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی حکام منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی آئی۔ اس سے قبل امریکا چین، میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر بھی بھاری محصولات لگا چکا ہے۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کانگریس کو دیے گئے ایک بیان میں بھارت کو ان 23 ممالک میں شامل کیا تھا جو منشیات کی ترسیل یا غیر قانونی پیداوار کے بڑے مراکز تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ملک کا اس فہرست میں آنا اس کی حکومت کی انسداد منشیات کوششوں پر سوالیہ نشان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔