سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ؛ بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سکھ برادری نے کینیڈا میں احتجاج کرکے بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک کردیا۔
ہندوتوا نظریے کے تحت مودی سرکار کی سفاکی و قتل و غارت کے ذریعے خالصتان جدوجہد دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔ خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے مطابق بھارت میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی عالمی سطح پر سازشیں کی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈین سرزمین پر بھارتی جاسوسی اور دھونس کی جواب دہی کے لیے سکھ برادری سراپا احتجاج ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مطابق خالصتان تنظیم سِکھز فار جسٹس کا وینکورمیں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ سِکھز فار جسٹس کا دعویٰ ہے کہ بھارت خالصتان تحریک کو دہشتگرد کہتا ہے جب کہ اصل دہشت گرد نئی دہلی اور بھارتی مشنز میں بیٹھے ہیں۔
بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی احتجاج کرنے کے لیے سِکھز فار جسٹس نے میڈیا ایڈوائزری بھی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق خالصتان کے حامی بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی احتجاج کریں گے۔ 18 ستمبر 2023 کو کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجرکے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
میڈیا ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بھارتی قونصلیٹ آج بھی خفیہ جاسوس نیٹ ورکس اور نگرانی کے ذریعے خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ خطرے کی سنگینی پر کینیڈین پولیس نے ہردیب سنگھ نجر کے قتل کے گواہ اندرجیت سنگھ گوسل کو تحفظ کی پیشکش بھی کی۔
سکھ برادری نے اعلان کیا کہ ہردیب سنگھ نجر کا خون سکھ مزاحمت کا نعرہ بن چکا ہے۔ سکھوں کی عالمی جدوجہد انصاف ملنے تک نہیں رکے گی۔ 1984ءسے آج تک بھارت نے سکھ برادری کو ظلم، فریب اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا۔ بھارت نے سفارت خانوں کو خفیہ کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کرکے بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنایا۔
کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر کا قتل بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کو بے نقاب کرتا ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں سکھ رہنماؤں پر حملے بھارتی ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ مودی کے ظلم و جارحیت کیخلاف خالصتان تحریک اب عالمی تحریک کا روپ دھار چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالصتان تحریک سکھ برادری
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔