راولپنڈی میں ڈینگی بے قابو، اسپتال مریضوں سے بھر گئے؛ ماہرین نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کو خطرناک قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی میں ڈینگی کی صورتحال قابو سے باہر ہو گئی ہے اور سرکاری و نجی اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف سرکاری اسپتالوں میں 413 مریض زیرِ علاج ہیں جبکہ نجی اسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ڈیڑھ ماہ ڈینگی کے پھیلاؤ کے حوالے سے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک 49 لاکھ 82 ہزار 897 گھر چیک کیے گئے جن میں سے 1 لاکھ 30 ہزار 336 گھروں سے ڈینگی لاروا برآمد ہوا۔ صرف ہاٹ اسپاٹ ایریاز سے 17 ہزار 862 مقامات پر لاروا کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے، جس پر انتظامیہ حرکت میں آگئی۔
مزید یہ کہ کلئیر قرار دیے گئے علاقوں میں بھی تھرڈ پارٹی سروے کے دوران 113 مقامات سے بھاری مقدار میں لاروا برآمد ہوا، جس نے انسدادِ ڈینگی مہم پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔ بغیر اطلاع غیر حاضر رہنے والے 13 ڈینگی ورکرز اور غلط رپورٹس جمع کرانے والے 3 اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔
انسدادِ ڈینگی آپریشن کے دوران اب تک 3894 مقدمات درج، 1722 پراپرٹیز سیل، جبکہ 3304 چالان کیے جا چکے ہیں۔ شہریوں اور اداروں پر مجموعی طور پر 97 لاکھ 84 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔