حکومت اور ایس آئی ایف سی کا تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیلئے آگاہی مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
حکومت اور ایس آئی ایف سی نے تھیلیسیمیا سے بچاؤ اور آگاہی کی مشترکہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور ایس آئی ایف سی کی مشترکہ مہم کا مقصد تھیلیسیمیا کے خلاف ہر بچے کے لیے روشن اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنانا ہے اور تھیلیسیمیا جیسے مرض سے قبل از وقت بچاؤ اور بروقت علاج کی آگاہی فراہم کرنا ہے۔
تھلیسیمیا جیسی موروثی خون کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے سب سے سنگین مسئلہ خون کی کمی ہے۔ پاکستان میں ہر 10 میں سے 1 بچہ تھلیسیمیا جیسے موروثی مرض کا شکار ہے۔
پاکستان میں سالانہ 5 ہزار سے زائد نئے تھلیسیمیا کے کیسز رپورٹ اور 1 لاکھ سے زائد تھلیسیمیا کے رجسٹرڈ مریض موجود ہیں۔ عالمی آبادی کا 1.
پاکستان کی بات کی جائے تو ملک میں بیٹا تھلیسیمیا کیریئرز کی تعداد 13.2 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ہر سال پاکستان میں 5 ہزار سے 9 ہزار یعنی روزانہ 17 بچے بیٹا تھلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ تر تھلیسیمیا کے مریضوں کو زندگی بھر باقاعدہ خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس مہم کے ذریعے حکومت اور ایس آئی ایف سی تھلیسیمیا کے مرض کی روک تھام کے لیے مشترکہ کاوشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔
تھلیسیمیا انٹرنیشنل فیڈریشن تھلیسیمیا کی روک تھام کے لیے امداد فراہم کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور ایس ایف سی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔