دارالحکومت میں 12 قسم کی سرگرمیوں پر پابندی، دفعہ 144 میں دو ماہ کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سٹی 42 : اسلام آباد میں جلسے جلوسوں، وال چاکنگ اور اسلحہ کی نمائش سمیت دیگر پابندیاں، انتظامیہ نے دفعہ 144 میں دو ماہ کی توسیع کر دی ۔
دفعہ 144 کے تحت شہر اقتدار میں 12 قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کر دیا ہے، جس کے مطابق سٹون کرشنگ ،اور غیر قانونی آئل اینڈ گیس ایجنسیوں پر پابندی عائد ، راول ڈیم میں کشتی رانی ، آتش بازی اور اسکے سامان کی خریدوفروخت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
نوٹیفکیشن کے مطابق اخبارات کو اشیاء کی پیکنگ کے لئے استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد، لاوڈ سپیکر ایمپلی فائر اور سائونڈ سسٹم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ اسلام آباد میں ڈرونز اڑانے اور صاف پانی جمع رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پابندی کا اطلاق آج سے دو ماہ کے لئے کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پابندی عائد کی گئی ہے پر پابندی عائد
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔