Express News:
2026-07-24@09:02:29 GMT

ایک اور ہجرت پر موت کو ترجیح

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے فلسطینی اکثریتی مشرقی یروشلم کو پورے مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ کر کے شمالاً جنوباً دو حصوں میں تقسیم کرنے کے حتمی منصوبے ایسٹ ون ( ای ون ) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا خواب محض ایک سراب ہے۔یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ای ون منصوبے کے تحت بارہ مربع کیلو میٹر رقبے میں قائم مالے ادومیم نامی آبادکار بستی میں مزید ساڑھے تین ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے۔

یروشلم سے اس بستی تک جو سڑک تعمیر ہو گی وہ رملہ اور بیت الحم کے درمیان سے گذرے گی۔ چنانچہ ایک دوسرے سے بائیس کیلومیٹر دوری پر واقع دونوں شہروں کا نہ صرف باہمی تعلق بلکہ یروشلم سے براہِ راست مواصلاتی رابطہ بھی ختم ہو جائے گا۔یعنی کسی بھی فلسطینی کو بھی ان شہروں سے یروشلم آنے کے لیے طویل راستہ کاٹ کے درجنوں فوجی چیک پوسٹوں پر پوچھ گچھ اور تلاشی کی اضافی ذلت سے گذرنا ہو گا۔

 منصوبے کا بنیادی مقصد جیسا کہ نیتن یاہو نے واضح کیا ، ایک خودمختار قابلِ عمل فلسطینی ریاست کو درکار علاقہ چھین کر آزادی کے امکان کو اور گہرا دفن کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، یورپی یونین اور برطانیہ ، آسٹریلیا اور جاپان سمیت اکیس ممالک نے اس توسیعی منصوبے کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔مگر اسرائیل ہر طرح کی مذمتوں اور مطالبات کا ہمیشہ سے عادی ہے۔

تازہ منصوبے میں تیزی لانے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ کئی اسرائیلی اتحادی ممالک نے دھمکی دی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے رواں سالانہ اجلاس کے دوران فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیں گے۔چند ماہ پہلے اسپین ، آئرلینڈ اور ناروے کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو مکمل سفارتی درجہ دینے کے ردِ عمل میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترخ نے خبردار کیا تھا کہ آیندہ جو ملک فلسطینی ریاست تسلیم کرے گا اس کے بدلے ایک نئی آبادکار بستی بطور ’’انعام ‘‘ تعمیر کی جائے گی۔

ای ون منصوبے کی ڈرائنگ سمجھاتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر فرمایا کہ مغربی کنارے پر ہر نئی بستی ، ہر نیا گھر فلسطینی ریاست کے خطرناک خیال کے تابوت میں ایک اور کیل ثابت ہوں گے۔

درحقیقت ای ون تعمیراتی منصوبہ اکتیس برس پرانا ہے اور انیس سو ترانوے کے اوسلو امن سجھوتے کے تحت دو ریاستی حل کا تحریری وعدہ کرنے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک رابین نے ہی سب سے پہلے انیس سو چورانوے میں اس بارے میں بات چھیڑی تھی۔ منصوبہ دو ہزار چار میں ایک پولیس اسٹیشن اور ذیلی سڑکوں کی تعمیر سے شروع ہوا۔تاہم یورپی ممالک نے تب بھی بظاہر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے دو ریاستی حل کی سرخ لکیر قرار دیا تو عارضی طور پر کام روک دیا گیا۔

مگر اکتوبر دو ہزار تئیس میں حماس کی مسلح کارروائی کے سبب گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا اور مغربی پشت پناہوں نے اسرائیل کو حقِ دفاع کے نام پر ہر نام نہاد سرخ لکیر عبور کرنے کی اجازت دے دی۔ٹرمپ کی جانب سے جب یہ سگنل ملا کہ اسرائیل اپنے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھانے میں حقِ بجانب ہے تو گویا نسل کشی اور قبضہ گیری کے گھوڑے کو ایڑ لگ گئی۔

مالے ادومیم کی بستی کو یروشلم سے ملانے والی شاہراہ ہر بڑی یہودی آبادی کو چھوتی ہوئی گذرے گی۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام اہم قصبے ان بستیوں کے درمیان تنہا جزیروں کی طرح زندہ رہیں گے کیونکہ ایک یہودی بستی سے دوسری بستی کو جو سڑک جوڑتی ہے اس پر سیکیورٹی کے نام پر فلسطینیوں کو بلا پرمٹ سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ای ون آبادکاری منصوبے کی توسیع کے لیے جو علاقہ مختص کیا گیا ہے اس میں اٹھارہ فلسطینی بدو برادریاں رہتی ہے اور ان کی زندگی کا دار و مدار زراعت اور مویشیوں پر ہے۔بدو کمیونٹی کی زیادہ تر آبادی مغربی کنارے پر خان الحمر کے میدانوں میں ہے جو یروشلم اور یہودی بستی مالے ادومیم کے درمیان پڑتے ہیں۔ شمالاً جنوباً شاہراہ بننے کا مطلب یہاں سے بدو آبادی کی بے دخلی ہے۔

ان برادریوں نے اب تک جبری بے دخلی کی مزاحمت کی ہے اور اسرائیلی عدالت سے ماضیِ قریب میں حکم ِ امتناعی بھی حاصل کیا ہے۔مگر بدلی فضا میں شاید عدالت بھی اب مدد نہ کر سکے۔یوں صدیوں پرانی فلسطینی تہذیب کی ایک اور تہہ ختم ہو جائے گی۔ انسانی حقوق کے ایک سرگرم یہودی کارکن ایلون کوہن کے بقول ای ون منصوبے کے کوئی سیاسی یا معاشی فوائد نہیں ہیں۔ اصل مقصد فلسطینیوں کو باقی ماندہ زمین چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

یہاں کئی بدو برادریاں وہ بھی ہیں جنھیں اسرائیل کے قیام کے بعد جنوبی اسرائیل میں صحراِ نجف کا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور وہ اپنا اسباب لے کر مغربی کنارے پر منتقل ہو گئیں جو انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیلی قبضے سے پہلے اردن کے زیرِ انتظام تھا۔

اب یہ برادریاں دوسری بار چراگاہوں اور زمینوں سے بے دخل ہوں گی تو ان کی منزل گنے چنے گنجان فلسطینی شہر ہی ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ مرکز برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ جنوری دو ہزار چوبیس سے اس سال اکتیس جولائی تک مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر مسلح آبادکاروں نے لگ بھگ ڈھائی ہزار حملے کیے۔سب سے زیادہ حملے رملہ ( پانچ سو پچاسی ) اور نابلس ( چار سو اسی ) میں ہوئے ہیں۔اس عرصے میں فوج اور آبادکاروں نے مل کر ایک سو تیس بچوں سمیت پونے سات سو فلسطینیوں کو شہید کیا ۔زیتون کے ہزاروں درخت اکھاڑے گئے یا جلا دیے گئے۔

فلسطینی آبادی کو بھوک سے مارنے کے لیے غزہ میں تو ناکہ بند نسل کشی کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ مغربی کنارے پر یہی کام کھیتوں کی ضبطی ، فصلیں بلڈوز کرنے یا جلانے ، آبی چشموں پر قبضے اور نقل و حرکت کو اجازت ناموں کا قیدی بنا کر کیا جا رہا ہے۔تاہم  فلسطینی گزشتہ ہجرتوں کے برعکس اس بار ایک نئی بے دخلی کا عذاب سہنے کے بجائے اپنی ہی زمین پر موت ، قید اور املاک کی تباہی برداشت کر رہے ہیں۔ ایک آخری امید کی ڈھال ان کا واحد سہارا ہے ۔یہ آخری امید کیا ہے شاید فلسطینی بھی نہیں جانتے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے لیے

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید