پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں پولیس کی بہادری پر مبنی ڈاکیومنٹری ریلیز
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کے پس منظر میں پولیس کی بہادری اور کردار پر مبنی ڈاکومینٹری ’دی پولیس اسٹوری‘ کا پریمئر کراچی کے ایک مقامی سینیما میں منعقد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکومینٹری کے پریمئر میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جیز سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے، تقریب کی مرکزِ نگاہ وہ تینوں بہادر پولیس اہلکار رہے جنہوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے دوران دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ 29 جون 2020 کو ہوا تھا، جب 4 مسلح افراد نے ایک گاڑی میں آ کر داخلی دروازے پر فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صرف 8 منٹ کے مختصر وقت میں چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
اس واقعے میں 1 پولیس اہلکار اور 3 سکیورٹی گارڈز شہید ہوئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ڈاکومینٹری میں پورے واقعے کی حقیقت سے قریب تر منظر کشی کی گئی ہے۔ دستاویزی فلم میں گیٹ پر تعینات اس ریپڈ رسپانس فورس کے بہادر پولیس اہلکار رفیق کی کامیاب کوشش کو دکھایا گیا جس نے کوئی آڑ نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر لیٹ کر ایسا انداز اپنایا جیسے وہ زندہ نہ ہو اور جیسے ہی پہلا دہشت گرد گیٹ سے داخل ہوا تو پولیس اہلکار رفیق نے لیٹی پوزیشن میں اسے سر پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔
https://youtu.
ایک اور دہشت گرد اندر داخل ہوتے ہی اس پولیس اہلکار کی گولیوں کا نشانہ بنا اور وہ بھی جہنم واصل ہوگیا۔ باقی دو دہشت گردوں کو پولیس اہلکار محمد سلیم اور خلیل نے نشانہ بنایا۔
پریمیئر شو سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ یہ ڈاکومینٹری پولیس کی غیر معمولی کارکردگی کو اجاگر کرتی ہے، اہلکاروں نے چند منٹ میں دہشت گردوں کو جہنم واصل کرکے ملک کو بڑے سانحے سے بچایا، میں اس پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے حقیقت سے قریب تر ڈاکومینٹری بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پولیس کے اچھے کام زیادہ نمایاں نہیں ہوپاتے اور اکثر ادارے کا تاثر منفی دکھایا جاتا ہے اس سے فورس کا مورال متاثر ہوتا ہے۔ پولیس کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے.
اس ڈاکومینٹری میں شامل تینوں اہلکار محمد سلیم، رفیق اور خلیل پریمئر میں بھی موجود تھے اور حاضرین کی بھرپور توجہ کا مرکز بنے رہے۔ بہادر اہلکاروں نے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہمارے ذہن میں صرف شہادت اور ملک کی سلامتی کا جذبہ تھا، گھر اور ذاتی زندگی بعد کی بات تھی۔
راوا ڈاکومینٹریز فلمز پروڈکشنز کے ڈائریکٹر سید عاطف علی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں پولیس فورس کے کارنامے عوام کے سامنے نہیں آپاتے۔ اس ڈاکومینٹری کا مقصد ان غیر معمولی کاوشوں کو منظرِ عام پر لانا ہے تاکہ عوام کو احساس ہوسکے کہ پولیس کس طرح اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر پولیس اہلکار کہا کہ
پڑھیں:
نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔
یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔
دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘