یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں پر ہفتہ کے روز مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں مسافر چیک اِن سسٹمز متاثر ہوگئے۔ متاثرہ ائرپورٹس کو ہنگامی طور پر دستی طریقہ کار اپنانا پڑا جس سے لمبی قطاریں، پروازوں میں تاخیر اور بعض فلائٹس کی منسوخی ہوئی۔

یہ  بھی پڑھیں:پاکستان کے سائبر اٹیک میں بھارت کو کس تباہی کا سامنا کرنا پڑا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

برلن-برانڈنبرگ ایئرپورٹ نے تصدیق کی کہ سائبر حملہ جمعے کی شب ایک بیرونی ٹیکنالوجی فراہم کنندہ پر کیا گیا تھا، ایئرپورٹ براہِ راست نشانہ نہیں تھا۔ تاہم احتیاط کے طور پر متعلقہ نظام منقطع کر دیے گئے، جس سے چیک اِن اور بورڈنگ کا عمل سست روی کا شکار ہوگیا۔

برسلز ایئرپورٹ نے بھی سنگین نتائج سے خبردار کیا اور بتایا کہ چیک اِن اور بورڈنگ مکمل طور پر دستی طور پر کیے جارہے ہیں جس کے باعث روانگی ہالز میں شدید ہجوم دیکھنے میں آیا۔ انتظامیہ نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال ایئرلائنز سے معلوم کریں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی پر سائبر اٹیک، خفیہ معلومات افشا

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ، جو یورپ کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے، نے بھی تاخیر کے امکانات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ مسئلہ ایک بیرونی سروس فراہم کنندہ کے “ٹیکنیکل پرابلم” سے جڑا ہے۔ حکام نے کہا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے مگر اثرات کی مکمل تفصیل نہیں بتائی گئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ واضح نہیں کہ سائبر حملہ کس نے کیا اور اس کے مقاصد کیا تھے۔ متاثرہ ٹیکنالوجی فراہم کنندہ کی ایمرجنسی سائبر سکیورٹی ٹیمیں ایئرپورٹس کے ساتھ مل کر نظام کو بحال کرنے اور نقصان کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پروازیں سائبر اٹیک ہیتھرو ایئر پورٹ یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروازیں سائبر اٹیک ہیتھرو ایئر پورٹ یورپ

پڑھیں:

نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں

یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹو 

یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔

یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔

کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔

  —فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔

یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں