سائبر حملے سے یورپی ہوائی اڈوں پر بد نظمی، پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں پر ہفتہ کے روز مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں مسافر چیک اِن سسٹمز متاثر ہوگئے۔ متاثرہ ائرپورٹس کو ہنگامی طور پر دستی طریقہ کار اپنانا پڑا جس سے لمبی قطاریں، پروازوں میں تاخیر اور بعض فلائٹس کی منسوخی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے سائبر اٹیک میں بھارت کو کس تباہی کا سامنا کرنا پڑا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
برلن-برانڈنبرگ ایئرپورٹ نے تصدیق کی کہ سائبر حملہ جمعے کی شب ایک بیرونی ٹیکنالوجی فراہم کنندہ پر کیا گیا تھا، ایئرپورٹ براہِ راست نشانہ نہیں تھا۔ تاہم احتیاط کے طور پر متعلقہ نظام منقطع کر دیے گئے، جس سے چیک اِن اور بورڈنگ کا عمل سست روی کا شکار ہوگیا۔
برسلز ایئرپورٹ نے بھی سنگین نتائج سے خبردار کیا اور بتایا کہ چیک اِن اور بورڈنگ مکمل طور پر دستی طور پر کیے جارہے ہیں جس کے باعث روانگی ہالز میں شدید ہجوم دیکھنے میں آیا۔ انتظامیہ نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال ایئرلائنز سے معلوم کریں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی پر سائبر اٹیک، خفیہ معلومات افشا
لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ، جو یورپ کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے، نے بھی تاخیر کے امکانات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ مسئلہ ایک بیرونی سروس فراہم کنندہ کے “ٹیکنیکل پرابلم” سے جڑا ہے۔ حکام نے کہا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے مگر اثرات کی مکمل تفصیل نہیں بتائی گئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ واضح نہیں کہ سائبر حملہ کس نے کیا اور اس کے مقاصد کیا تھے۔ متاثرہ ٹیکنالوجی فراہم کنندہ کی ایمرجنسی سائبر سکیورٹی ٹیمیں ایئرپورٹس کے ساتھ مل کر نظام کو بحال کرنے اور نقصان کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروازیں سائبر اٹیک ہیتھرو ایئر پورٹ یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروازیں سائبر اٹیک ہیتھرو ایئر پورٹ یورپ
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔