تصادم کی فضا پیدا کرنے سے امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، بگرام ائیربیس ایشو پر چین کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بگرام پر دوبارہ قبضے کے لیے اشتعال انگیز بیانات علاقائی کشیدگی اور پیچیدگیوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ روس نے بھی حالیہ مہینوں میں متعدد بار مغربی، بالخصوص امریکی، افغانستان میں فوجیوں کی واپسی کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بگرام ایئر بیس پر دوبارہ قبضے کی کوشش کے بارے میں امریکی صدر کے ریمارکس کے جواب میں چین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے اور تصادم کی فضا پیدا کرنے جیسی سوچ کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اور افغانستان کے مستقبل کا تعین ملک کے عوام کو کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بگرام ایئر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے پر سنجیدہ لہجے میں زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ بگرام بیس چین کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر ہے اور ہم اس اسٹریٹجک بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان بیانات کے جواب میں چین نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے، افغانستان کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، ہم تمام فریقین سے علاقائی امن اور استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس سے قبل طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اعلان کیا تھا کہ افغان سرزمین کا ایک انچ بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور امریکہ کے ساتھ بات چیت صرف سیاسی اور اقتصادی ہوگی۔ طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کے مشیر ذاکر جلالی نے ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں زور دیا تھا کہ طالبان افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی فوجی کی موجودگی کو قبول نہیں کرتے، حالانکہ وہ امریکہ کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی بات چیت کو ممکن سمجھتے ہیں۔
مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بگرام پر دوبارہ قبضے کے لیے اشتعال انگیز بیانات علاقائی کشیدگی اور پیچیدگیوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ روس نے بھی حالیہ مہینوں میں متعدد بار مغربی، بالخصوص امریکی، افغانستان میں فوجیوں کی واپسی کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بگرام ایئر بیس کسی زمانے میں افغانستان میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ تھا اور اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان حکومت کے کنٹرول میں آیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار چین کی نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے مراکز کے قیام سمیت تزویراتی مقاصد کے لیے اس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت کی بات کی ہے۔ چین نے بھی بارہا ٹرمپ کے بگرام کے بارے میں بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ افغانستان اور خطے میں کسی بھی فوجی کشیدگی سے پڑوسی ممالک کے استحکام اور سلامتی کو خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان میں خبردار کیا ہے کے بارے میں کے لیے ہے اور
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔