ووٹ کو عزت دو ایک جھوٹا بیانیہ، شفاف انتخابات ہی حل ہیں، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا یہ کہنا کہ بانی تحریک انصاف کا دور ختم ہوچکا ہے، ایک خام خیالی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مریم نواز کا چیلنج قبول کرتے ہیں۔
اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ایک جھوٹ ثابت ہوا ہے، کیونکہ ن لیگ نے خود ووٹ چوری کرکے حکومت بنائی۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بار بار یہی مطالبہ کر رہی ہے کہ انتخابات ایک نیوٹرل امپائر کے تحت اور شفاف انداز میں کرائے جائیں تاکہ عوامی مینڈیٹ سامنے آ سکے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کو شفاف الیکشن میں حصہ لینا چاہیے اور ہمیں ایک جیسی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور اتحادی جماعتیں خود کو سچا سمجھتی ہیں تو آئندہ الیکشن میں صرف دس نشستیں جیت کر دکھائیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ صاف اور شفاف الیکشن ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے عوامی اعتماد بحال ہوگا اور حقیقی مینڈیٹ سامنے آئے گا۔ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین پاکستانی عوام کے عقیدے اور جذبات سے جڑے ہیں اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ریاست سے ریاست کا معاہدہ ہے اور پاکستانی عوام حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔