غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کے خاندان سمیت 91 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں غزہ میں ایک ہی دن کے دوران 91 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک نامور ڈاکٹر کے اہل خانہ اور شمالی غزہ سے نکلنے کی کوشش کرنے والے 4 افراد بھی شامل ہیں جو ایک ٹرک پر سوار تھے۔
یہ ہلاکتیں ہفتے کے روز اس وقت ہوئیں جب اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر فضائی اور زمینی حملوں میں شدت پیدا کی۔ فوج کا مقصد اس سب سے بڑے شہری مرکز پر قبضہ کرنا اور آبادی کو جنوبی علاقوں میں قائم کردہ حراستی زونز کی طرف دھکیلنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.
طبی حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری میں رہائشی مکانات، اسکولوں میں قائم عارضی پناہ گاہیں، بے گھر افراد کے خیمے اور وہ ٹرک بھی نشانہ بنایا گیا جس میں لوگ فوجی حکم کے تحت غزہ شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان حملوں میں کم از کم 76 افراد جاں بحق ہوئے۔
ہفتے کی صبح سب سے المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ کے خاندان کا گھر نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ڈاکٹر کے بھائی، بھابھی اور ان کے بچے شہید ہو گئے۔ ڈاکٹر ابو سلمیہ اس وقت اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر تھے۔
حماس نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خون آلود دہشت گردانہ پیغام ہے جس کے ذریعے ڈاکٹروں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ گروپ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 1,700 سے زائد طبی اہلکار شہید اور 400 کو قید کیا جا چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Gaza اسرائیل غزہ فلسطین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔