سدرہ امین کے شاندار سنچری کے بعد 6 کا اشارہ، بھارتی سوشل میڈیا پر ہنگامہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اسٹار بیٹر سدرہ امین نے جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے مسلسل دو ون ڈے میچز میں سنچریاں اسکور کر کے نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا۔ تاہم ان کی سنچری کے بعد کیا گیا ایک اشارہ بھارتیوں کو خاصا ناگوار گزرا۔
سدرہ امین نے پہلے ون ڈے میں 121 رنز جبکہ دوسرے میچ میں 122 رنز کی اننگز کھیل کر نہ صرف پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اپنی چھٹی ون ڈے سنچری بھی مکمل کی۔ اس کارکردگی کے ساتھ وہ مسلسل دو ون ڈے سنچریاں بنانے والی پہلی پاکستانی اور دوسری ایشیائی ویمن کرکٹر بن گئی ہیں۔
جب سدرہ نے اپنی چھٹی سنچری مکمل کی تو انہوں نے خوشی کے اظہار کے طور پر ہاتھوں سے چھ کا اشارہ کیا۔ اس سادہ سے جشن نے بھارتی سوشل میڈیا صارفین کو سیخ پا کر دیا، جنہوں نے اس اشارے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سدرہ امین کرکٹ میں “سیاست گھسیٹ رہی ہیں”۔
بھارتیوں کو یاد آیا فضائی معرکہ؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ سدرہ کے کے اشارے کو کچھ بھارتی صارفین نے معرکہ حق سے جوڑ دیا، جس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے گئے۔
اسی پس منظر میں پاک فضائیہ کے ایئروائس مارشل اورنگزیب احمد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ معرکۂ حق میں پاک فضائیہ نے بھارت کو 6-0 سے شکست دی۔
بھارتی سوشل میڈیا معرکہ حق کوسدرہ کے اشارے سے جوڑتے ہوئے تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا، حالانکہ سدرہ کی طرف سے اس اشارے کی کوئی سیاسی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سدرہ کی کارکردگی نے تاریخ رقم کر دی
پاکستان ویمنز ٹیم کی تاریخ میں اب تک 10 ون ڈے سنچریاں اسکور کی گئی ہیں، جن میں سے اکیلی سدرہ امین نے 6 بنائی ہیں — جو کہ ان کی مستقل مزاجی اور اعلیٰ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
کرکٹ مبصرین اور سابق کھلاڑی سدرہ کی اس کارکردگی کو پاکستان ویمن کرکٹ کے لیے “گیم چینجر لمحہ” قرار دے رہے ہیں، جو نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔