شہباز اور 6 مسلم رہنما کل ٹرمپ سے ملیں گے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اسلام آباد /نیویارک (نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں مصروفیات کا شیڈول سامنے آگیا ہے‘پروگرام کے مطابق شہبازشریف سعودی عرب اور قطر سمیت چھ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ منگل 23ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے‘ ٹرمپ نے پاکستان‘ سعودی عرب، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور مصر کے رہنماؤں کو مشترکہ ملاقات کی دعوت دے رکھی ہے‘ شہباز شریف 26ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، وزیراعظم کی کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی طے پا گئی ہیں۔دفتر خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ منتخب مسلم رہنماؤں کی ملاقات میں شرکت کریں گےجس میں علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی لندن سے امریکا روانگی کے شیڈ ول میں تبدیلی کی گئی ہے۔ شہباز شریف آج بروز پیر لندن سے امریکا روانہ ہونگے۔وزیراعظم نے پہلے اتوارکو برطانیہ سے امریکا روانہ ہونا تھا۔ شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کی 22 ستمبر کو فلسطین کے دو ریاستی حل پر سربراہ کانفرنس میں نیویارک میں شرکت متوقع ہے۔ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب 26 ستمبر کو ہوگا‘شہباز شریف 27ستمبرکو امریکا سے وطن واپس روانہ ہونگے ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیویارک میں جنرل اسمبلی شہباز شریف رہنماو ں کریں گے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔