میرا سیٹھی نے دو برس بعد اپنی طلاق کی تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اداکارہ، مصنفہ اور ڈرامہ نگار میرا سیٹھی نے دو برس بعد اپنی طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کھل کر اس ذاتی صدمے اور اس سے جڑے تجربات پر بات کی ہے۔
حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی ازدواجی زندگی مارچ 2023 میں ختم ہوئی، بالکل اسی دوران وہ ڈراما سیریل اَن کہی کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ ان کے بقول، یہ دور ان کی زندگی کے سب سے مشکل ادوار میں سے ایک تھا۔
میرا سیٹھی نے یاد دلایا کہ کئی برس پہلے وہ ایک ڈرامے میں ایک مکالمہ بول چکی ہیں کہ ’’طلاق یافتہ عورت معاشرے کے لیے کانٹا بن جاتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ فقرہ آج بھی ان کے دل میں تازہ ہے، تاہم اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ آج انڈسٹری میں کئی فنکارائیں اس موضوع پر کھل کر گفتگو کرتی ہیں، لیکن شادی کے خاتمے کے بعد جو درد اور شناخت کا بحران پیدا ہوتا ہے، وہ اپنی جگہ ایک بڑی حقیقت ہے۔
اداکارہ کے مطابق طلاق کے بعد وہ پچھلے ڈھائی سال سے اپنی ذات کے اندر جھانکنے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ ان کے بقول ایک اداکارہ کے لیے یہ اور بھی ضروری ہے کیونکہ ان کی زندگی اکثر پردے پر دوسروں کی نظروں کے سامنے ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت میں ان کے دوستوں اور اہلِ خانہ نے ان کا غیر معمولی ساتھ دیا، جب کہ چند اجنبیوں کی مدد بھی ان کے لیے ہمت کا باعث بنی۔
میرا سیٹھی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ طلاق انسان کی شناخت اور نفسیات پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور اس صدمے کو سہنے میں وقت لگتا ہے، تاہم اندر کی دنیا کو سمجھنے کا یہ موقع ان کے لیے ایک مثبت اور لازمی تجربہ بن گیا۔
خیال رہے کہ میرا سیٹھی نے 2019 میں اپنے قریبی دوست بلال صدیقی سے امریکا میں شادی کی تھی، جب کہ ان کی منگنی اس سے ایک سال قبل انجام پائی تھی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میرا سیٹھی نے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔