فلسطین کے حق میں عالمی مظاہرے، ایتھنز میں اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں فلسطینی عوام کے حق میں ایک بڑا مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں شہریوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی۔
مظاہرین نے غزہ میں جاری بمباری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے یونانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات فوری طور پر منقطع کرے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ یونان کو بین الاقوامی برادری کے سامنے فلسطینی عوام کے حق میں واضح موقف اپنانا چاہیے اور انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی نہیں برتنی چاہیے۔ مظاہرین نے عالمی رہنماؤں سے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل بھی کی۔
یہ احتجاج عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں بڑھتی ہوئی حمایت کا حصہ ہے۔ اسپین میں ہیلتھ ورکرز نے ایک منفرد احتجاجی اقدام کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر سرخ رنگ لگا کر ’’خون رُکوانے‘‘ کی علامتی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہونے والی نسل کُشی فوری طور پر روکی جانی چاہیے۔
اسی طرح جاپان میں بھی ایک سماجی کارکن نے ٹوکیو کی مرکزی سڑکوں پر فلسطینی پرچم بلند کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اسرائیل میں بھی نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے زور پکڑ رہے ہیں۔ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور فوری جنگ بندی کے معاہدے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جنگ پالیسیوں نے خطے میں استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عالمی ردعمل اس بات کی عکاسی کررہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحفظ کا اہم معاملہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے عوام اپنی حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤقف اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔