UrduPoint:
2026-07-24@07:41:25 GMT

بندوقیں خاموش کریں اور امن کی پکار سنیں، یو این چیف کی اپیل

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

بندوقیں خاموش کریں اور امن کی پکار سنیں، یو این چیف کی اپیل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 ستمبر 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جنگ زدہ دنیا امن کے لیے پکار رہی ہے اور ہر جگہ لوگوں کو بندوقیں خاموش کرنے، تقسیم کے خاتمے اور امید بڑھانے کے لیے فوری قدم اٹھانا ہوں گے۔

عالمی یوم امن پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ مسلح تنازعات کے باعث دنیا بھر میں زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، بچپن چھن رہا ہے اور بنیادی انسانی وقار کو جنگ کی بے رحمی اور ذلتوں کے بیچ روند ڈالا گیا ہے۔

جنگوں سے تباہ حال تمام لوگ صرف امن چاہتے ہیں۔

دور حاضر میں تنازعات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات سرحدوں سے پرے بھی پھیل رہے ہیں اور ان سے نقل مکانی، غربت اور عدم استحکام کو ہوا مل رہی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ حالات میں بہتری کے لیے ہتھیاروں کو خاموش کرنے، لوگوں کی تکالیف کا خاتمہ کرنے، صلح و مفاہمت اور استحکام و خوشحالی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

امن کی خاطر فوری اقدامات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981 میں عالمی یوم امن کا آغاز کیا تھا اور بعدازاں اسے عدم تشدد اور جنگ بندی کا عالمی دن قرار دیا گیا۔

'امن کی خاطر فوری اقدامات' رواں سال اس دن کا خاص موضوع ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تنازعات کی روک تھام، نفرت انگیزی و گمراہ کن اطلاعات کا مقابلہ کرنے اور قیام امن کے لیے کام کرنے والوں بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ تعاون کے لیے فوری اور اجتماعی اقدام کی ضرورت ہے۔

انتونیو گوتیرش نے امن اور پائیدار ترقی کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے ترقی کی دوڑ میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنے والے 90 فیصد ممالک ایسے ہیں جنہیں مسلح تنازعات کا سامنا بھی ہے۔

باہمی احترام اور مکالمے کی ضرورت

انہوں نے نسل پرستی اور انسانیت سے گریز کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف بھی خبردار کیا اور باہم احترام پر مبنی زبان اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امسال عالمی یوم امن ایسے وقت منایا جا رہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اعلیٰ سطحی ہفتہ شروع ہونے کو ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے رہنما نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہو کر جنگوں، موسمیاتی بحران، صنفی مساوات اور مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات اور مواقع سمیت دنیا کو درپیش مسائل پر بات چیت کریں گے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ تقسیم اور عدم استحکام میں اضافے کے ساتھ امن کے لیے مربوط عالمی کوششوں کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جہاں امن ہوتا ہے وہاں امید ہوتی ہے۔ امن مزید انتظار نہیں کر سکتا اس کے لیے بلاتاخیر کام شروع کرنا ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی ضرورت کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان