فلسطین کو مغربی ممالک کی جانب سے آزاد ریاست تسلیم کرنے پر حماس کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس نے مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔
مزاحمتی تنظیم کے مطابق یہ اعلان نہ صرف فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی توثیق ہے بلکہ عالمی سطح پر انصاف کی ایک اہم پیش رفت بھی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو باضابطہ طور پر آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پرتگال کی جانب سے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرلیا گیاہ ے۔ حماس کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس ہوگا اور یہ حقیقت فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حق کی عکاسی کرتی ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے امن کی امید کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ دنیا کے 140 سے زیادہ ممالک کی پالیسی کے مطابق ہے، تاہم یہ اقدام اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکا کے لیے یقینی طور پر ناراضی کا سبب بنے گا۔
اس کے ساتھ کینیڈا اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والوں میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران مزید ممالک کی جانب سے اسی طرح کے فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریاست تسلیم کرنے کی جانب سے فلسطین کو کے مطابق ممالک کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔