برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے بعد پرتگال کا بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پرتگال کے مستقل مشن کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ پاولُو رانژیل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ملک نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا پرتگالی خارجہ پالیسی کی ایک بنیادی اور مستقل ترجیح کا عملی اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم
پاولُو رانژیل نے زور دیا کہ پرتگال دو ریاستی حل کو ہی منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حماس کو غزہ یا اس کے باہر کسی بھی طرح کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا غزہ میں جاری انسانی المیے کو ختم نہیں کرتا۔ انہوں نے وہاں بھوک، تباہی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ اس سے کچھ دیر قبل برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر اسرائیل کا شدید ردعمل
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطین کو ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل سے متعلق اہم کانفرنس کے موقع پر کیا، یہ اقدام برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سامنے آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پرتگال سعودی عرب فلسطیبنی ریاست.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرتگال فلسطیبنی ریاست تسلیم کرنے فلسطین کو کو تسلیم
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔