فلسطینی ریاست تسلیم کیے جانا مزاحمت اور قربانیوں کا ثمر ہے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کو فوری طور پر روکنے اور مغربی کنارے اور یروشلم میں الحاق اور یہودیت کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے اقدامات کے ساتھ ہونا چاہیے، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بدمعاش صیہونی حکومت کو تنہا کردے اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بعض ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حماس کے بیان کا متن کہا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا ہماری قوم کی جدوجہد، مزاحمت اور اس سرزمین کی آزادی اور مہاجرین کی واپسی کے لیے اس کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کو فوری طور پر روکنے اور مغربی کنارے اور یروشلم میں الحاق اور یہودیت کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے اقدامات کے ساتھ ہونا چاہیے، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بدمعاش صیہونی حکومت کو تنہا کردے، اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون اور ہم آہنگی بند کرے اور اس حکومت کو سزا دینے کے لیے اقدامات تیز کرے، فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدید تاریخ کے سب سے وحشیانہ قبضے کے خلاف ان کی جدوجہد ایک فطری حق ہے جس کی ضمانت بین الاقوامی قانون نے دی ہے اور دنیا کے تمام ممالک کو ہمارے عوام کی حمایت کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔