ایف آئی اے، رینجرز کی مشترکہ کارروائی، جعلی ڈالرز فروخت میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم کراچی نے رینجرز کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران جعلی ڈالرز کی فروخت میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم کراچی نے انٹیلیجنس بنیاد پر رینجرز کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران جعلی امریکی ڈالر کی فروخت میں ملوث ملزم کو گرفتار کیا گیا اور ملزم کی شناخت محمد شفیق کے نام سے ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کو موبائل مارکیٹ صدر کراچی سے گرفتار کیا گیا، ملزم کو جعلی ڈالرز کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے 94 ہزار جعلی امریکی ڈالرز ، 16180 روپے اور موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے اور اس حوالے سےتفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملزم کو
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔