ویکسین مہم سے طالبات کی حالت خراب، وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ، واٹس ایپ اور فیس بک پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس میں اسکول یونیفارم پہنی لڑکیاں اسپتال کے بستر پر دکھائی دیتی ہیں۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ مناظر ایچ پی وی ویکسین لگنے کے بعد طالبات کی طبیعت بگڑنے کے ہیں۔
فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیق نے اس دعوے کی حقیقت آشکار کردی۔ جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوا کہ وڈیو کا ویکسی نیشن مہم سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ مئی 2024 میں آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈھیڈیال میں پولیس کی آنسو گیس شیلنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے کی ہے۔
یہ غلط دعویٰ اس وقت زور پکڑا جب ایکس پوسٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’’اسکولوں میں زبردستی ویکسی نیشن کے بعد بچیاں بیمار ہوگئیں۔‘‘ اس پوسٹ کو لاکھوں افراد نے دیکھا اور ہزاروں بار شیئر کیا۔ تاہم، اس بیان میں نہ تو واقعے کی جگہ، نہ تاریخ اور نہ ہی ویکسین کی وضاحت دی گئی۔
مزید تلاش کے نتیجے میں یہ ویڈیو 9 مئی 2024 کو یوٹیوب پر بھی سامنے آئی، جس کا عنوان تھا: ’’ڈھیڈیال میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسا دیے۔‘‘
اسی روز صحافی بشارت راجہ نے ایکس پر اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پولیس اور نامعلوم افراد کی جانب سے حد سے زیادہ آنسو گیس کے استعمال سے طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ بعد ازاں اخبارات کی رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ واقعہ آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا تھا۔
یہ بھی ڈڈیال کا کلپ ہے جہاں پولیس اور سویلین کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی طرف سے سکولوں پر آنسو گیس کا بے تحاشا استعمال کیا گیا جس سے سالانہ امتحانات میں مشغول طالبات بے ہوش ہو گئی pic.
دوسری جانب، ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم کے حوالے سے حقائق یکسر مختلف ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان کے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے مطابق یہ مہم ستمبر 2025 میں شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد 9 سے 14 سال کی عمر کی 13 ملین بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگانا ہے۔ یہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے، جس کے صرف معمولی ضمنی اثرات جیسے انجیکشن کی جگہ پر ہلکا درد یا بخار ظاہر ہوسکتے ہیں، جو دیگر ویکسینز کی طرح عام ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آنسو گیس
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر