فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دی جائے، چین کی عالمی برادری سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو برسوں سے جاری غزہ جنگ نے سنگین انسانی المیہ پیدا کیا ہے اور اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ وانگ یی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے تین اقدامات فوری اختیار کیے جائیں، جن میں غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی، فلسطینی عوام کی اپنے علاقوں پر حکمرانی اور دو ریاستی حل کو مضبوطی سے قائم رکھنا شامل ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دلانے کی حمایت کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی برادری دو ریاستی حل
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔