مسئلہ فلسطین پر آج ہونیوالی یو این کانفرنس بارے جاننے کی اہم باتیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 ستمبر 2025ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر22 ستمبر کو فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کا احیاء کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس عالمی کانفرنس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کریں گے۔
رواں سال اپریل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی۔
فلسطینی مسئلے کےدو ریاستی حل کا امکان کمزور پڑ رہا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا سیاسی عزم اب پہلے سے کہیں زیادہ دور محسوس ہوتا ہے۔حالیہ دنوں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ مسئلے کے اس حل کا متبادل کیا ہے؟ کیا یہ حل یک ریاستی ہو گا جس میں یا تو فلسطینیوں کو ان کے علاقے سے نکال دیا جائے، یا انہیں اپنی سرزمین پر حقوق کے بغیر رہنے پر مجبور کیا جائے؟
انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل کو زندہ رکھنا اور اس کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔
(جاری ہے)
درج ذیل نکات اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ دو ریاستی حل کے لیے ہونے والی کانفرنس کیوں اہم ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے افتتاحی دن ہونے والی یہ کانفرنس ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے جب غزہ میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں 60,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 22 اگست کو شمالی غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی گئی، 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر میں حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں بھی تیزی آئی ہے۔
اس غیر مستحکم اور تشویشناک علاقائی صورتحال کے باوجود، دو ریاستی حل کو سفارتی سطح پر دوبارہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ 12 ستمبر کو جنرل اسمبلی نے کثرتِ رائے سے 'نیویارک اعلامیہ' منظور کیا جس میں دو ریاستی حل پر مبنی اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی حمایت کی گئی۔ اعلامیے میں جنگ کے خاتمے کے لیے حماس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں اپنا کردار ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔
امریکہ اور اسرائیل نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا۔22 ستمبر کو ہونے والا سربراہی اجلاس اسی سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں اس اجلاس میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق، برطانیہ، کینیڈا، بیلجیئم اور آسٹریلیا سمیت کئی دیگر مغربی ممالک بھی اسی اقدام پر غور کر رہے ہیں۔
اس طرح، یہ سربراہی اجلاس اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے نیا لائحہ عمل ترتیب دینے کی عالمی کوششوں میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کی دو ریاستی حل جنرل اسمبلی ستمبر کو کی بنیاد اور اس کے لیے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎