عالمی سطح پر قیام امن کے لئے پاک فوج کی کوششوں سے دنیا واقف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جانب سے 21 ستمبر کو امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے جب کہ عالمی امن کے حوالے سے پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔
عالمی سطح پر قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں سے دنیا واقف ہے، پاکستانی امن دستے اقوام متحدہ کے مشن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایسے علاقوں میں جہاں امن کی ضرورت تھی وہاں پر پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دی، گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن دستوں نے عالمی امن اور سلامتی کے لیے ان گنت قیمتی جانیں بچائیں۔
یہ دن انسانی مصائب کے خاتمے، جنگوں اور اندرونی تنازعات سے مسلح ممالک میں دیرپا قیام امن کے عالمی عزم کی عکاسی کرتا ہے، پاکستانی امن دستے اقوام متحدہ کی امن فوج کے مشن کو انتہائی مہارت اور لگن سے پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق؛ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے امن کے مبصرین کو اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے مکمل مدد اور رسائی فراہم کرتا ہے، 235,000 سے زائد پاکستانی فوجیوں نے دنیا کے 29 ممالک میں اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں خدمات انجام دی ہیں۔
پاکستانی امن دستوں نے اعلیٰ سطح پر امن کی بحالی کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو مستقبل میں بھی جاری رہے گا، پاکستان کو اقوامِ متحدہ کے قیام امن کے لیے اپنی دیرینہ وابستگی پر فخر ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اقوام متحدہ کے قیام امن کے
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی