لاہور کے صحافیوں کو نیشنل کرائم ایجنسی کے نوٹسز کیوں جاری ہوئے، معاملہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری سمیت لاہور کے کئی کرائم رپورٹرز، احمد فراز، شہراز نثار، وسیم صابر، یاسر شمون اور مجاہد شیخ، کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے نوٹسز جاری کیے ہیں۔
ان نوٹسز کے ذریعے صحافیوں کو لاہور آفس میں 22 ستمبر تک پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو وہ اپنے دفاع کا حق ضائع کریں گے۔
کرائم رپوٹرز پر کو یہ نوٹسز الیکٹرونک کرائم ایکٹ، پیکا کی متعدد شقوں کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیفیمیشن، جھوٹی خبروں کی اشاعت، اور سرکاری افسران کے خلاف ’مضر‘ مہم شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں جرائم کی رپورٹنگ میں بہادری کی داستان، خواتین کرائم رپورٹرز
نیشنل کرائم ایجسنی کے مطابق، صحافیوں نے سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران اور دیگر سینئر افسران کے خلاف ’بدنیتی بھری اور بدنام کرنے والی‘ مہم چلائی جو پیکا ایکٹ کے تحت جھوٹی معلومات کی اشاعت اور حکومت مخالف نفرت پھیلانا کے تحت جرم قرار دی جاتی ہے۔
ایک صحافی یاسر شمون، جنہیں ایک پولیس کمپلننٹ عظیم اللہ خان کی شکایت پر نوٹس ملا، الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سینئر پولیس افسران کے خلاف مضر مہم چلائی۔ پی ایف یو جے اور لاہور پریس کلب کے مطابق، یہ نوٹسز صحافیوں کی پولیس کے خلاف حالیہ تنازعات کا نتیجہ ہیں، جو کرائم رپورٹنگ کے دوران پیدا ہوئے ہیں۔
صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اور دیگر صحافیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کسی پولیس آفسر کو ٹارگٹ نہیں، کیا البتہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے کرائم پر ضرور بات کی ہے۔ لاہور پولیس خوف زدہ ہے کہ کرائم اور جرائم بڑھنے کی وجہ کیوں عوام کو بتا رہے ہیں، اسی وجہ سے صحافیوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون کیوں ضروری ہے؟
اب نیشنل کرائم ایجنسی کی طرف سے ہمیں نوٹس دیے گئے ہیں یہ پولیس اور این سی سی آئی اے کی ملی بھگت سے جاری کیے گئے ہیں، ہم اب یہ مقدمہ لڑیں گے اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ بار اور سپریم کورٹ بار نے بھی پیکا ایکٹ اور صحافیوں کو جاری ہونے والے نوٹسز کی بھر پور مذمت کی ہے اور ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی صحافی برادری کے ساتھ ہوں اگر نیشنل کرائم ایجنسی کسی کو گرفتار کرنا چاہتی ہے تو وہ مجھے سب سے پہلے گرفتار کرے، ہم حق پر ہیں اور ہم حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
حکومتی مؤقف کیا ہے؟وی نیوز سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعلات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو نوٹسز بھیجنے میں فریق نہیں۔ لاہور پولیس اور کرائم رپوٹرز کا جو ایشو چل رہا ہے، اس پر حکومت نے پولیس آفیسر اور لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کو
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور پریس کلب صحافیوں کو کے خلاف
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور