Juraat:
2026-06-03@05:13:09 GMT

معاہدے کی تقدیس اور تاریخ کا سچ!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

معاہدے کی تقدیس اور تاریخ کا سچ!

ماجرا/ محمد طاہر
۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاہدے میں قومی ریاستوں کے اپنے اپنے مقاصد موجود ہیں۔ مگر اسے ایک ”مقدس” معاہدے کے طور پر پیش کرنا ایک گمراہ کن تصور ہے جس کی تصدیق نہ تاریخ سے ہوتی ہے اور نہ ہی معاہدے کے معلوم عزائم سے۔ گزشتہ تحریر میں سوال ادھورا چھوڑا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے سرشار کردینے والے تاثر کی اس معاہدے سے کوئی نسبت ہے اور کیا سعودی عرب ، اسرائیل کو ایک دشمن ریاست سمجھتا بھی ہے یا نہیں؟ اگر اس سوال کا درست جواب تلاش کر لیا جائے تو معاہدے کا مناسب سیاق و سباق قائم کرنا دشوار نہیں رہے گا۔
سعودی عرب کے کردار کو سمجھنے کے لیے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین تنازعات اور جنگی تاریخ کو ٹٹولنا پڑے گا۔ یہودیوں نے یکطرفہ طور پر 14مئی 1948 ء کو اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اگلے ہی روز مصر، اردن اور عراق نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کیا اور اپنی مشترکہ افواج فلسطین بھیج دیں۔ پہلے ہی روز بات سمجھ میں آجانی چاہئے تھی۔ایک دن کی تاریخ رکھنے والی ایک نوزائیدہ ناجائز ریاست کو بھی عرب ریاستوں کی مشترکہ افواج نابود و معدوم نہ کرسکیں۔ ابھی اسرائیل کو عالمی سطح پر پوری طرح تسلیم بھی نہ کیا گیا تھا مگر اسرائیل کی تعداد میں کم افوج نے چھ روزہ جنگ میں کامیاب مزاحمت کی۔ کیونکہ اسرائیلی افواج امریکی جدید ہتھیاروں سے لیس تھیں اور اس میں بہت سارے فوجی دوسری جنگ عظیم میںلڑنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ واضح رہے کہ ان عرب افواج میں ایک سعودی دستہ بھی شامل تھا۔ جنگ سے قبل اقوام متحدہ نے اسرائیل کو 56 فیصد رقبہ دیا تھا مگر اس پہلی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اسرائیلیوں کے پاس 80 فیصد رقبہ آ گیا اور انھوں نے 8لاکھ فلسطینیوں کو جلا وطن کر کے ان کی املاک پر قبضہ کر لیا۔ 1949میں پہلا عرب اسرائیل امن معاہدہ ہوا ، 11مئی 1949کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنا دیا گیا۔ مگرعرب ریاستیں خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے میں ناکام رہیں۔عرب دنیا عالمی سیاست کو سمجھ رہی تھی ، نہ اپنے ہاں قائم ہونے والی بادشاہتوں کے بنیادی مسئلے اور ترجیحات کا اندازہ لگا پا رہی تھی۔ اگلی دہائیوں میں اسرائیل کے بھیانک مقاصد سے وابستہ جغرافیائی اُتھل پتھل ہونے والا تمام منظرنامہ” امت مسلمہ” کے مقاصد سے ”قومی ریاست” کے اہداف میں تبدیل ہونا تھا۔یہ عمل فرانز کافکا کے ناول ڈی میٹا مورفوسس (The Metamorphosis) سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ مارک ٹوئن نے ایک موقع پر کہا تھا کہ
"Truth is stranger than fiction, but it is because Fiction is obliged to stick to possibilities;Truth isn’t.


(سچائی افسانے سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے ، کیونکہ افسانہ ممکنات تک محدود رہنے پر مجبور ہے ، مگر سچائی نہیں)۔
امت مسلمہ کے مقاصد ہر گزرتے دن اپنی حساسیت کھوتے گئے۔اسرائیل کو ناگزیر حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ اور عرب دنیا اپنے اپنے جغرافیوں کی تنگنائے میں اپنی اپنی قومی ریاست کے تحفظ کے جبر میں مبتلا کی جاتی رہی۔ سب کچھ پُرکاری سے ہو رہا تھا۔مسلمان قومی ریاست کے جبر میں ”مسلم امہ” کے کسی مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔(یاد رکھیں! حرمین شریفین کے تحفظ کو بھی یقینی نہیں بنا سکتے۔ قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ کی تو کوئی بات ہی نہیں)۔اس کھیل میں بتدریج عرب خاندانوں کو قومی ریاستوں اور چھوٹے چھوٹے جغرافیے کے تحفظ کے جبر میں مبتلا کر دیا گیا۔ اسرائیل کے ساتھ پہلی عرب جنگ میں ایک چھوٹے دستے کی علامتی شمولیت کے بعد سعودی عرب اس دنگل سے شعوری طور پر دست کش ہو گیا۔ اس کے پیچھے ایک تاریخ، ایک ذہن اور ایک مکروہ نفسیات تھی۔ مگر یہاں یہ موضوع نہیں۔
عرب دنیا کی بعد کی تمام جنگوں کو دیکھ لیں کہیں پر بھی سعودی عرب ایک فریق کے طور پر اسرائیل کے مقابل کھڑا نہیں ہوا۔اس نے اپنے کردار کو علامتی طور پر مالی امداد تک محدود رکھا ہے۔ایک اُچَٹتی نظرڈال لیں۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ (مئی 1948 ) کے بعد دوسرا بڑا بحران سوئز کنال پر کھڑا ہوا جو دوسری عرب اسرائیل جنگ کا محرک بنا۔ 29اکتوبر 1956کو اسرائیل نے اس جنگ کا آغاز کیا اور بیک وقت مصر کے قبضے میں غزہ اور صحرائے سینا پر حملہ کر کے اپنا تسلط جما لیا۔تیسری عرب اسرائیل جنگ اسرائیل کے نومبر 1966 میں اردن کے زیر انتظام ایک فلسطینی گاؤں السموع پر فضائی حملے سے شروع ہوئی۔ چوتھی عرب اسرائیل جنگ ،یوم کپور کی لڑائی بھی کہلاتی ہے۔ یہودی 6 اکتوبر 1973ء کو یوم کپور کا جشن منا رہے تھے تو دوپہر دو بجے مصر نے اسرائیل پر پہلا فضائی حملہ 240طیاروں کے ساتھ کیا۔ اسی کے ساتھ 2ہزارٹینک اور ایک ہزارتوپیں بھی اسرائیل کی طرف گولہ باری کرنے لگیں۔اسرائیل 1982ء سے لبنان پر مختلف حیلوں، حوالوں سے حملہ آور ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں انتفاضہ کے بعد 1987سے چلی آتی غزہ جنگیں ہیںجو 2007 میں نئی جھڑپوں میں تبدیل ہوئیں،جب حماس نے غزہ کی پٹی پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیاتو اسرائیل نے اسے دشمن علاقہ کہہ کر تسلیم نہیں کیا۔ یہ جھڑپیں مختلف مواقع پر جاری رہیں۔ یہاں تک کہ 7اکتوبر 2023ء کو اسرائیل حماس کی وہ جنگ شروع ہوئی جس نے عالم عرب کو بالعموم اور سعودی عرب کو بالخصوص بے نقاب کر دیا۔عرب اسرائیل تنازعات کی پوری تاریخ اُٹھائیں، سعودی عرب کی مئی 1948ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ میں محدود اور علامتی شرکت کے علاوہ کسی بھی دوسری جنگ میں گزشتہ 77 برسوں میں کوئی عملی شرکت نہیں ہے۔ اس دوران میں اسرائیل کے خلاف جتنے بھی محاذ گرم ہوئے سعودی عرب نے مالی، سیاسی اور سفارتی مدد تو کی مگر فوجی مداخلت یا شرکت سے شعوری گریز کیا۔ اس دوران اگر کوئی ایک واقعہ پیش کیا جا سکتا ہے تو وہ 1973 کی جنگ کے دوران ”تیل کو بطور ہتھیار”استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ اس کے اسباب و محرکات الگ تھے، تب سعودی عرب کی قیادت بھی مختلف تھی۔ اب اسرائیل کے خلاف جنگوں میں محض مالی امداد کا معاملہ ہے تو یہ خود عالمی اداروں کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس کے مقاصد بہت فروعی اور خود جنگی مقاصد کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک الگ ہی موضوع ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض ہے کہ استعمار کے طریقہ واردات کو سمجھنے سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ امداد اور میزائل دونوں میں ایک خوف ناک نامیاتی رشتہ ہے، جیسے آئی ایم ایف کی چیک بک اور پینٹاگون کے کروز میزائل میں ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان17ستمبر 2025 کو ” اسٹریٹیجک ڈیفنس پارٹنر شپ ”معاہدہ کو امت مسلمہ یا حرمین شریفین کے تحفظ کے کوئی مقدس معنی دینا فی الواقع تاریخ کی ایک غلط تعبیر ہے۔ یہ دو قومی ریاستوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے جو اتفاق سے مسلمان بھی کہلاتی ہیں۔ مگر مسلمان ہونے کے کسی مقصد سے عملاً مربوط رہنے کی کوئی قابل ِ اعتبار تاریخ نہیں رکھتی۔ ان کے درمیان اگر کوئی مشترک نکتہ ہے تو یہ دونوں ہی ریاستیں ابتدا سے ہی امریکا کے زیر اثر ہیں۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے زیادہ امریکا پر انحصار کرتی ہیں۔اب یہ ایک مضحک صورت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں خطے میں امریکا کی زیر قیادت سکیورٹی سے متعلق مضبوط شراکت دار ہیں۔ یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے آپریشنل دائرہ کار میں بھی سب سے اہم ممالک میں شامل ہیں، مگر ان دونوں ممالک کے معاہدے کو اسرائیل کے خلاف سمجھا جائے یا اس کی کوئی مشرق وسطیٰ میں ایسی تعبیر نکالی جائے جو ”امت مسلمہ” کے مقدس اور حقیقی مقاصد سے جڑی ہوئی ہو۔ اس لیے کہ جہاں پاکستان اور سعودی عرب سیکورٹی امور میں امریکا کے مضبوط شراکت دار ہیں، وہیں اسرائیل کا سب سے بڑا محافظ امریکا ہی ہے۔ یوں بالواسطہ طور پر اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ہی امریکی ضمانتوں میں ہیں۔دوحہ سربراہی کانفرنس کا اعلامیہ ایک مرتبہ پھر پڑھ لیں۔ عالم اسلام کے فالج زدہ حکمرانوں نے اس اعلامیے میں بھی امریکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس کے باوجود یہ صورت حال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کو کم اہم نہیں بناتی۔اس سے خطے میں نئے امکانات پیدا ضرور ہوئے ہیں۔ مگر اس معاہدے کو اس کے درست سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔ بس یہی ہماری مودبانہ گزارش ہے۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عرب اسرائیل جنگ اسرائیل کے خلاف کو اسرائیل قومی ریاست اسرائیل کو کے تحفظ کے پہلی عرب عرب دنیا

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے