پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ روس کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں پاک بھارت تنازع کے دوران روس نے توازن اختیار کیا اور اسی پالیسی پر قائم ہے۔

روسی سفیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی ایک وجہ اسرائیل کی طرف سے قطر پر حالیہ حملہ بھی ہے۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کے دعوؤں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا واقعی افغانستان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے افغان عوام کے 10 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں قرارداد جمع

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور روسی حکومت پاکستان کی اس پالیسی کو سراہتی ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود یوکرین تنازعے پر غیر جانبداری اپنائے ہوئے ہے۔

خورئیو کے مطابق پاکستان کا مؤقف روسی موقف سے ہم آہنگ ہے کیونکہ دونوں ممالک اس تنازع کے سفارتی حل کے حامی ہیں۔

روسی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں سروائیکل کینسر کی ویکسین کے حوالے سے تاحال کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، تاہم چند فارما سوئیٹیکل کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ روس کے تعلقات خوشگوار سطح پر ہیں جبکہ یوکرین کے معاملے پر امریکا سمجھداری دکھا رہا ہے، تاہم یورپی ممالک جارحانہ رویہ اپنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیا معنی رکھتے ہیں؟

خورئیو نے بتایا کہ یوکرین گزشتہ چند ماہ میں روس پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے اور یورپی امداد کا فائدہ اٹھا کر اپنی فوج کو دوبارہ منظم اور مسلح کرنا چاہتا ہے۔

ان کے مطابق خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک یوکرین کو قریباً 70.

2 ارب ڈالرز کی امداد دی جا چکی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کی آئینی مدت 2024 میں ختم ہو چکی ہے اور وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسی حکام کے مطابق ماسکو کی افواج کا یورپ یا ہالینڈ میں اہداف کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور روس کو پولینڈ یا نیٹو کے دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدے پاکستان روسی فیڈریشن سفیر البرٹ پی خورئی شملہ معاہدے لاہور ڈیکلیریشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک سعودی دفاعی معاہدے پاکستان روسی فیڈریشن سفیر البرٹ پی خورئی شملہ معاہدے دفاعی معاہدے انہوں نے کے مطابق کہا کہ

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل