ٹرمپ کی مسلم اور عرب رہنماؤں سے ملاقات، غزہ صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
امریکی صدر سے ملاقات میں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔ مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر تجاویز پیش کیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلامی مملکت کے سربراہان سے ملاقات ختم ہوگئی۔ ملاقات میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی، ملاقات کے بعد رہنماء بات چیت کئے بغیر ہی روانہ ہوگئے۔ امریکی صدر سے ملاقات میں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔ مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر تجاویز پیش کیں۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور غزہ سے تمام اسرائیلی قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر ہونے والی میٹنگ کامیاب ہونے کی امید ہے، روس کو بھی جنگ روکنا ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات اعزاز ہے، آپ سب نے بہترین کام کیا، جو قابل تعریف ہے۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کو نہایت مفید قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات رہنماو ں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔