کلکتہ میں تاریخی بارش، 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 10 جانیں ضائع
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی شہر کلکتہ میں موسلا دھار بارشوں نے گزشتہ 39 برس کا ریکارڈ توڑ دیا اور زندگی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق صرف 24 گھنٹوں کے دوران کلکتہ اور اس کے مضافات میں 251 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس سے قبل 1986 میں ہوئی تھی۔ غیر معمولی بارشوں کے نتیجے میں شہر مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
شدید بارش کے بعد تعلیمی اداروں کو دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم شاہراہیں زیرِ آب آنے سے ٹریفک جام ہوگیا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، ریلوے سروس معطل جبکہ درجنوں پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہیں۔ بارش کے پانی میں ڈوبی گلیاں اور سڑکیں شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بارشوں کے بعد مختلف حادثات میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں سے 8 افراد کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جاسکے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اس قدر شدید بارش غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔