بارشوں اورسیلاب سے مجموعی طور پر 51 گرڈ اور 588 فیڈرز متاثر ، 379 فیڈر مکمل اور 206 جزوی طور پر بحال کر دیئے گئے ہیں، پاور ڈویژن
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2025ء) بارشوں اورسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 51 گرڈ اور 588 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 379 فیڈر مکمل اور 206 جزوی طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔بدھ کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی بحالی پر 24 ستمبر تک کی رپورٹ کے مطابق فیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں 28 گرڈ اور 81 فیڈرز متاثر ہوئے،متاثرہ فیڈرز میں 67 مکمل اور 14 جزوی طور پر بحال کردئیے گئے،فیسکو کے 2497 متاثرہ صارفین کیلئے بجلی کی بحالی کا کام تقریباً 24 ستمبر تک مکمل کرنے کی توقع ہے،فیسکو کے زیر انتظام علاقے فیصل آباد ، چنیوٹ اور میاں والی میں بجلی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لیسکو کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 66 مکمل اورایک جزوی طور پر بحال ہوچکے ہیں،لیسکو کے 441 متاثرہ صارفین کیلئے بجلی کی بحالی کا کام تقریباً25 ستمبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، لیسکو کے زیرانتظام علاقے لاہور، ننکانہ، شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں بجلی کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔(جاری ہے)
پاور ڈویژن کے مطابق میپکو کے 181 متاثرہ فیڈرز میں سے 35 مکمل اور 143 جزوی طور پر بحال ہوئے، میپکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں پانی اترتے ہی متاثرہ فیڈرز کی مکمل بحالی کا کام شروع ہو جائے گا۔
گیپکو کے 11 گرڈز اور 103فیڈرزمتاثر ہوئے ،متاثرہ فیڈرز میں سے 102 فیڈرز مکمل اور 1 جزوی طور پر بحال ہوچکے ہیں، گیپکو کے متاثرہ صارفین کیلئے بجلی بحالی کا کام سیلاب کا پانی اترنے پر مکمل کر لیا جائے گا۔رپورٹ پاور ڈویژن کے مطابق پیسکو کے 88 فیڈرز مکمل اور 3 جزوی طور پر بحال کردئیے گئے ہیں، پیسکو کے زیرِ انتظام علاقے سوات، صوابی اور ڈی آئی خان میں بجلی کی بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ٹیسکو کے علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر کے 18 متاثرہ فیڈرز کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے،ہیزیکو کے زیرِ انتظام علاقے مانسہرہ کے 3 متاثرہ فیڈرز کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے، سیپکو کے زیرِ انتظام علاقے کے 44 متاثرہ فیڈر عارضی طور پر بحال ہوئے ہیں ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بجلی کی بحالی کا کام جزوی طور پر بحال کر متاثرہ فیڈرز میں انتظام علاقے پاور ڈویژن کے مطابق مکمل اور گیا ہے کے زیر
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔