یورپی عوام کا غزہ کی حمایت میں نکلنا ظالم سے نفرت کی علامت ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
جیکب آباد میں درسی نشست سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پوری دنیا کی ہر محفل میں ان اولیاء خدا کا تذکرہ ہو رہا ہے جنہوں نے عصر حاضر کی ظالم استکباری قوتوں، امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پاکیزہ لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ غزہ کے شہداء کا مقدس لہو عالم انسانیت کی بیداری کا سبب بن رہا ہے۔ اقوام عالم خواب غفلت سے بیدار ہو رہی ہیں اور وقت کے فرعون اور یزید کے خلاف عوامی نفرت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی ممالک میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کا غزہ کی حمایت میں نکلنا ظلم و ظالم سے نفرت کی علامت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد میں مسجد نبوی میں منعقدہ درسی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کی ہر محفل میں ان اولیاء خدا کا تذکرہ ہو رہا ہے جنہوں نے عصر حاضر کی ظالم استکباری قوتوں، امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پاکیزہ لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ عالمی بیداری اور ظلم کے خلاف قیام اس حسین مستقبل کی نوید ہے جس کا وعدہ تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید نے کیا ہے۔ صالحین کی حکومت اور مستضعفین کی امامت کا وعدہ پورا ہونے کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ظلم اور بربریت کی اس سیاہ رات میں فجر کے طلوع ہونے کے آثار واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ تیزی سے بدلتے عالمی حالات ظالمین کی رسوائی اور اہلِ حق کی فتح کی دلیل بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں ہمیں "جہادِ تبیین" کا فریضہ ادا کرنا ہے۔ حق بات کو بیان کرنا اور دلیل و منطق سے وقت کے ظالموں کو رسوا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کے باوفا فرزند، شہیدِ امت سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی کے موقع پر اس عظیم شہید کے ساتھ اپنے عہد وفا کی تجدید کریں گے۔ شہید سید مقاومت نہ صرف لبنان بلکہ پوری امت مسلمہ کا ہیرو تھے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی اور شہید امت کے ساتھ تجدیدِ عہد کیا جائے گا۔ اس درسی نشست میں وحدت یوتھ کے ڈویژنل صدر اللہ بخش میرالی، مجلس علماء مکتب اہلبیت کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی، مسجد نبوی کے خادم استاد صدام حسین ویسر اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے رہا ہے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔