استعمال شدہ کمرشل گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دے دی۔
ای سی سی اعلامیہ کے مطابق وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ورچوئلی اجلاس ہوا جس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 5 سال سے کم پرانی گاڑیاں 30 جون 2026 تک درآمد کی جا سکیں گی تاہم بعد ازاں گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔
ای سی سی اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ کمرشل درآمد شدہ گاڑیاں ماحولیاتی اور حفاظتی معیار پر پورا اتریں گی، 5 سال سے کم پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔
اسی طرح ریگولیٹری ڈیوٹی 2026 سے ہر سال 10 فیصد کم کی جائے گی اور مالی سال30-2029 تک درآمدی ڈیوٹی بتدریج ختم کر دی جائے گی۔
اجلاس میں پی وی اے آر اے کے لیے 80 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔